fbpx

تاج محل معاملہ : آثار قدیمہ نے 22 بند کمروں کی تصاویر جاری کردیں

تاج محل کے تہہ خانے میں بند 22 کمروں کی تصاویر آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے جاری کر دی ہیں-

باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے تصاویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کنفیوژن نہ پھیلائیں اے ایس آئی کے مطابق یہ تصویریں اس وقت لی گئیں جب ان کی مرمت ہو رہی تھی۔

تاج محل پر درخواست خارج،عدالت برہم ، درخواست گزار کی سخت سرزنش

آگرہ اے ایس آئی کے سربراہ آر کے پٹیل کے مطابق، تصاویر اے ایس آئی کی ویب سائٹ پر جنوری 2022 کے نیوز لیٹر کے طور پر بھی دستیاب ہیں۔ کوئی بھی ان کی ویب سائٹ پر جا کر ان تصاویر کو دیکھ سکتا ہے ان بند کمروں میں تزئین و آرائش کا کام کیا گیا تھا۔ اس کام پر تقریباً 6لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

سیاحت کے شعبے سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ ان کمروں میں کیا ہے اس کے بارے میں غلط باتیں نہ پھیلائیں۔ یہ تصاویر صرف اس کی روک تھام کے لیے جاری کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ بی جے پی رہنما ڈاکٹر رجنیش کمار کی جانب سے الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی تھی جس میں تاج محل کے ان 22 کمروں کو کھولنے کی اپیل کی گئی تھی ہائی کورٹ کی بنچ نے درخواست کو خارج کر دیا تھا۔بلکہ عرضی گزار پر برہمی کا اظہار بھی کیا تھا-

درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ آپ کمیٹی کے ذریعے حقائق کی کھوج مانگ رہے ہیں آپ کون ہیں یہ آپ کا حق نہیں ہے اور نہ ہی یہ آر ٹی آئی ایکٹ کے دائرہ کار میں ہے پہلے تاریخ کا مطالعہ کریں ،پی ایچ ڈی کریں اور پھر عدالت آئیں۔

بھارت، چھتیس گڑھ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، دو پائلٹ ہلاک

دوسری جانب اس درخواست کی حمایت کرتے ہوئے راجستھان سے بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ دیا کماری نے کہا تھا کہ تاج محل کی زمین ان کے شاہی خاندان کی ہے۔ شاہی خاندان کے کچھ ٹکڑے اب بھی تہہ خانے کے کمروں میں موجود ہیں۔

دریں اثنا، دن کی شدید گرمی کے باوجود ہفتہ کو 20 ہزار سے زیادہ سیاحوں نے تاج محل کا دورہ کیا۔ 13,814 سیاحوں نے اپنے ٹکٹ آن لائن خریدے تھے جبکہ 7154 سیاحوں نے آف لائن ٹکٹ خریدے تھے۔

بھارت:کورونا وائرس نے پھرسراُٹھا لیا:ہلاکتوں میں تیزی

انڈین ایکسپریس کے مطابق جاری کی گئی تصاویر کے بارے میں، اے ایس آئی کے آگرہ سرکل کے اہلکاروں نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ہر ماہ، ہر ایک حلقہ اپنے دائرہ کار میں کیے گئے کام کی جھلکیاں دہلی ہیڈ کوارٹر کو بھیجتا ہےجن میں سے کچھ اے ایس آئی کے نیوز لیٹر میں شامل کیے جاتے ہیں۔

آگرہ سرکل کے اہلکار نے کہا کہ یہ دسمبر 2021 اور فروری 2022 کےدرمیان تھا کہ ان خلیوں میں تحفظ کا کام کیا گیا تھا شائع شدہ تصاویر دسمبر 2021 کی تھیں۔ اس کے بعد بھی بہت زیادہ کام ہوا اور تصویریں لی گئیں۔ آیا انہیں نیوز لیٹر کے اگلے شماروں میں جگہ ملتی ہے یا نہیں یہ ایک ادارتی فیصلہ ہوگا یہ صرف تاج محل ہی نہیں ہے۔ ہم نے جامع مسجد، اعتماد الدولہ اور آگرہ فورٹ میں کام کیا، اور ان میں سے کچھ تصویریں مذکورہ شمارے میں بھی شائع ہوئی ہیں-

بھارت نے گندم کی برآمد پر پابندی عائد کر دی