fbpx

اشرف غنی کی ہرزہ سرائی . تحریر: محمدزمان

نائن الیون کے بعد امریکہ اوراتحادیوں کی یورش کے باعث افغانستان بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے۔ امریکہ طالبان براہِ راست مذاکرات امن معاہدے پرختم ہوئے توافغانستان میں امن کی امید پیدا ہوئی۔ خطے کا امن افغانستان کے امن سے وابستہ ہونے کے ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا دارومداربھی شورش زدہ پڑوسی ملک میں امن کے قیام پرہے مگراب حالات کسی اورطرف کروٹ لیتے نظر آرہے ہیں افغانستان میں امن کی بحالی کے امکانات معدوم ہونے لگے ہیں۔ امریکہ اورطالبان کے مابین امن معاہدہ 29 فروری 2020 کو ہوا جس کی افغان انتظامیہ کی طرف سے شدید مخالفت کی گئی تھی۔ افغان قومی سلامتی کے مشیر حمدللہ محب امریکہ طالبان مذاکرات اور بعد ازاں امن معاہدے کے خلاف زہراگلتے رہے۔ امریکہ اورطالبان کو مذاکرات پرپاکستان نے آمادہ کیا تھا جبکہ حمداللہ محب پاکستان کیخلاف آج بھی بدزبانی کررہے ہیں۔ امن معاہدے پرعمل کیلئے افغان حکمرانوں کا تعاون ضروری تھا۔ وہ تو نہ صرف معاہدے کی شدید مخالفت کرتے رہے بلکہ معاہدے کوسبوتاژکرنے کیلئے ہرحربہ آزماتے اورسازشیں بھی کرتے رہے۔

امریکہ کا آج بھی افغانستان میں واضح عمل دخل ہے۔ امن معاہدے پرعمل کواسی نے یقینی بنایا ہوتا تو آج حالات اس انارکی کونہ پہنچتے۔ طالبان تعاون پرتیارتھے۔ ایک سیاسی سیٹ اپ آسانی سے تشکیل پاسکتا تھا۔ اب حالات پرقابو پانا مشکل نظرآتا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ 95 فیصد انخلا مکمل ہوچکا ہے۔ 100 فیصد مکمل ہونے پرافغانستان میں کیا صورتحال ہو گی اس کا اندازہ وہاں برپا شورش سے کیا جاسکتا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے افغانستان کے بیشترعلاقوں کے بعد چمن سے متصل باب دوستی کا کنٹرول بھی سنبھال لیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد سیل کردی گئی اورسکیورٹی فورسزکی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ گزشتہ رات طالبان نے افغانستان کے سرحدی شہر سپن بولدک پاک افغان سرحد کے قریب حملہ کیا تھا۔ افغان فورسز کے پیچھے ہٹنے کے بعد درجنوں طالبان پاک افغان سرحد کے باب دوستی پرپہنچے اورمرکزی دروازے پراپنا پرچم لہرا دیا۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں بھی اس کی تصدیق کردی گئی ہے طالبان کے مقبوضات میں اضافہ ہورہا ہے۔ 85 فیصد علاقوں پروہ پہلے ہی قبضہ کرچکے ہیں۔ ادھرصدراشرف غنی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ طالبان کی کمرجلد توڑدی جائیگی، ان سے زیرقبضہ علاقے واپس لے لیں گے۔ اشرف غنی کی فوج کی حکمت عملی اتنی ہی کامیاب ہوتی تو آج طالبان وسیع علاقوں اورشہروں پر قبضہ نہ کرلیتے۔ حالات اب جس طرف جارہے ہیں اس کا اندازہ برطانوی وزیر دفاع کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔

بین ویلس نے کہا ہے کہ طالبان نے حکومت بنائی تو انکے ساتھ تعاون کیلئے تیارہیں۔ افغان انتظامیہ کی طرف سے بھارت کے ساتھ رابطوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بھارتی فضائیہ کی مدد لی جا رہی ہے۔ اگرامریکہ اشرف غنی حکومت کا تحفظ نہیں کرسکا تو بھارت کس باغ کی مولی ہے۔ اچھا ہے بھارتی فوج اشرف غنی کی مدد کو آئے اورافغانستان میں اپنا قبرستان بنوائے۔ بھارت افغانستان کی موجودہ صورتحال میں کودتا ہے توخطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگی۔ بھارت افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کرتا رہا ہے جس میں اب کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ افغان انتظامیہ سے چھینی گئی پوسٹوں سے طالبان کو3 ارب روپے کی پاکستانی کرنسی ملی ہے۔ یہ رقم پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال کی جا رہی تھی۔ بھارت کتے کی دم کی طرح ہے جو کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی۔ وہ لاتوں کا بھوت ہے۔ اس کو مشرقی بارڈر پرحملوں کا منہ توڑجواب دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے اندربھی اسکے گیدڑ جاسوس اورایجنٹ دھرلیے جاتے ہیں۔

اسکے باوجود پیسے کے زور پر اسکی بزدلانہ کارروائیاں جاری رہتی ہیں۔ گزشتہ روز داسوڈیم کی بس نالے میں گرنے سے 9 چینی ورکرز سمیت 13 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس حادثے میں دہشتگردی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا جس میں بھارت ملوث ہوسکتا ہے۔ وہ پہلے بھی ایسی بھیانک کارروائیاں پاک چین تعلقات کو متاثراورسی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے کرچکا ہے اشرف غنی اقتداربچانے کیلئے اِدھرادھرہاتھ پائوں مارنے کے بجائے حقائق کا ادراک کریں۔ رواں ہفتے دوحہ میں طالبان افغان وفد سے ملاقات کیلئے آمادہ ہیں۔ افغان مسئلے کے حل کا یہی ایک پرامن موقع ہے جس کا افغان انتظامیہ فائدہ اٹھا کرافغانستان میں مزید خونریزی کو روک سکتی ہے اوریہ اسکی طرف سے امن معاہدے کی مخالفت کا کفارہ بھی ہوسکتا ہے۔ افغانستان کی موجودہ حکومت اوربھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کا سب سے بڑا مقصد اورہدف پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا، ہمارے امن کو تباہ کرنا اوردنیا میں پاکستان کے تاثرکوخراب کرنا ہے۔

بھارت اشرف غنی کی حکومت کے ذریعے سرکاری ذرائع استعمال کرتے ہوئے دہشت گردوں کی مالی مدد کر رہا ہے، اشرف غنی سے اپنا گھر سنبھالا نہیں جاتا، انہیں اقتدارختم ہوتا نظرآ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ افغان صدر نے بے بنیاد اورجھوٹے الزامات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اشرف غنی کی طاقت ہرروزکم ہوتی جا رہی ہے، طالبان نے ملک کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ناصرف اشرف غنی کو اقتدار چھن جانے کا غم کھا رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی موجودہ حکومت کے بھارتی حکومت کے ساتھ رابطے اور تعلقات بھی بے نقاب ہو رہے ہیں، دنیا کو پتہ چل رہا ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی سازشیں کر رہا ہے۔ چند روز قبل ہی این ڈی ایس کے ایک کرنل کے کمپاونڈ سے تین ارب روپے برآمد ہوئے ہیں، بھارتی قونضل خانے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بن چکے ہیں، افغان سرزمین دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ اشرف غنی اپنے معاملات کو درست کرنے کے بجائے پاکستان پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں۔ اس طرح نہ تو وہ اپنی ناکامی چھپا سکتے ہیں، نہ ہی ان کا اقتدار بچے گا اور نہ ہی وہ دنیا کو دھوکا دے سکتے ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی نے وسطی و جنوبی ایشیائی رابطہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ "پاکستان سے دس ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ہیں اگر بات چیت نا ہوئی تو ہم طالبان کا مقابلہ کریں گے۔ یہ امن کیلئے آخری موقع ہے”۔ اشرف غنی کا یہ بیان ایک شکست خوردہ شخص کی سوچ ہے۔ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان نے دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، پاکستان نے ستر ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کھربوں ڈالر کا مالی نقصان برداشت کیا ہے، ایک پوری نسل دہشت گردی کی نذر ہوئی ہے، پاکستان کا افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، طالبان مذاکرات کی میز پر آئے ہیں تو اس بات چیت میں پاکستان کا بہت بڑا حصہ ہے۔ دنیا اس معاملے میں پاکستان کے کرداراور کاوشوں سے ناواقف نہیں ہے۔ اشرف غنی بھارتی شہ پر نریندرا مودی کا بیانیہ پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اشرف غنی میں ہمت ہے یا وہ اتنی اہلیت رکھتے ہیں تو طالبان سے بات چیت کریں اگر بات چیت نہیں کر سکتے تو مقابلہ کریں، دنیا بھرمیں طالبان کو تسلیم کرنے کی سوچ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ پاکستان میں امن کانفرنس کا انعقاد ہو رہا تھا اشرف غنی کے الزامات کے بعد کانفرنس کا ملتوی ہونا امن کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔

اشرف غنی کے لیے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کا یہ بہترین موقع تھا، افغان صدر امن کے دشمن کے طور پرسامنے آئے ہیں۔ افغان کانفرنس ملتوی ہونے سے صرف پاکستان کا نقصان نہیں ہے بلکہ اس کانفرنس کے ملتوی ہونے سے خطے کے امن کو نقصان پہنچے گا۔ امریکہ، افغانستان کی موجودہ حکومت اور بھارت مل کر افغانستان میں مقبول عوامی قیادت کا راستہ روک کر دہائیوں سے جنگ لڑنے والے ملک کے عوام کو ایک نئی جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں وزیراعظم پاکستان افغان صدر کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اشرف غنی کی طرف سے پاکستان پر الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ افغانستان کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا شدید ناانصافی ہے۔

افغانستان میں امن کے لیے سب سے زیادہ کوششیں اور قربانیاں پاکستان کی ہیں۔ وہیں بھارتی صحافی نے بھی وزیراعظم عمران خان سے امن اوردہشت گردی کے حوالے سے طنزیہ سوال کیا تو وزیراعظم عمران خان نے اسے بھی ایسا جواب دیا ہے کہ نریندرا مودی برسوں اسے یاد رکھیں گے۔ وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت کو کب سے مہذب ہمسائے کی طرح رہنے کا کہہ رہے ہیں لیکن کیا کریں آر ایس ایس کا نظریہ راستے میں رکاوٹ ہے۔ اشرف غنی کا بیان اور بھارتی صحافی کا سوال ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بھی افغان صدر کی طرف سے پاکستان پرعائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ "پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات درست نہیں۔ پاکستان کی طرف سے کوئی دراندازی نہیں ہو رہی درحقیقت افغانستان کی طرف سے دراندازی ہو رہی ہے۔پاکستان افغانستان میں کسی دھڑے کی حمایت نہیں کر رہا۔ پاکستان امن کا خواشمند ہے۔پرامن اور مستحکم افغانستان ہی پاکستان اور دیگر ممالک کے مفاد میں ہے۔”یہ کھیل اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ دنیا میں امن صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ پاکستان نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے خطے کو پرامن بنانے کے کام کیا ہے لیکن خطے میں بھارت کے عزائم کو نقصان پہنچتا ہے۔ طالبان کی طاقت بڑھنے سے افغانستان میں ڈمی حکومت ختم ہو جائے گی بھارت کا اثرو رسوخ کم ہو گا، جنگی جنون میں مبتلا بھارت اسلحے اور سازشوں کے زور پر پاکستان کو دیوار سے لگاتے ہوئے بالادستی قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا، وہاں طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت نے نریندرا مودی کا یہ خواب چکنا چور کر دیا ہے۔

سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آ رہی ہے، طالبان قیادت نے پاکستان کے خلاف کسی سازش کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہوئے خطے میں امن عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ان حالات میں اشرف غنی کے پاس الزام تراشیوں کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔ بھارت پہلے سے موجود بنیادی مسائل حل کرنے کے بجائے نئے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی معاونت کے ثبوت دنیا کے سامنے ہیں ایک طرف امن پسند پاکستان ہے تو دوسری طرف توسیع پسندانہ عزائم کا حامل اور دہشتگردوں کا سرپرست بھارت ہے دنیا خود فیصلہ کرے کہ اس نے امن دوستوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا پھر دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والوں کا ساتھ دینا ہے۔ اشرف غنی بھارتی اشارے پر طالبان کی امن پسند کوششوں کو متنازع بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ان شااللہ پاکستان کے دشمن ناکام ہوں گے۔ افغان امن کانفرنس کی مخالف قوتیں وقتی طور پر تو کامیاب ہوئی ہیں۔ تمام ممالک کو اپنے اردگرد نظر رکھنے اور پہلے سے زیادہ
متحرک رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ نے ایک نیا کھیل شروع کر دیا ہے۔

@Zaman_740