ورلڈ ہیڈر ایڈ

دوران حراست ،زرداری کا انٹرویو، کس نے کی آئین کی خلاف ورزی؟نئی بحث چھڑ گئی

اسلام آباد:دوران حراست کسی ممبر قومی اسمبلی کا انٹرویو کرنا پیمرا،قومی اسمبلی اور پروڈکشن آرڈرز کی سراسر خلاف ورزی ہے اور ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے مرتکب ہوئے اس آئین شکنی کے.جیسا کہ آج شام بڑی تیزی سے یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ سابق صدر آصف علی زرداری کا ایک نجی ٹی وی پر انٹرویو نشر ہوگا. تو اس سے جہاں ناظرین مذبذب کا شکار تھے کہ یہ کیسے  ممکن ہے کہ ایک زیر حراست شخص کو اتنی ہی زیادہ آزادی مل چکی ہے کہ وہ عدالتی فیصلے سے پہلے ہی اپنی مرضی کا بیان میڈیا کا سہارا لے کر داغ دےجبکہ  پیمرا ،قومی اسمبلی اور اسپیکر قومی اسمبلی نے ایسے کسی بھی انٹریو کو آئین کی خلاف قرار دیا ہے.

آصف علی زرداری کا زیر حراست انٹریو کرنا سراسر پیمرا قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے اسے معمولی سمجھ کر نشر کرنے جارہے تھے جب اس غیر قانونی اقدام کا پیمرا کو علم ہوا تو پیمرا نے اس انٹرویو کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے نشر کرنے پر پابندی لگا دی.آصف علی زرداری سے پہلے اپو زیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف کو بھی پروڈکشن آرڈرز پر رہا کیا گیا لیکن میاں شہباز شریف کا اس حوالے سے کوئی انٹرو یو نہیں ہوا .دوسری طرف آصف علی زرداری کے انٹرویو نے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا آصف علی زرداری کو اس حوالے سے کوئی استثنیٰ حاصل ہے یا انٹر کرنے والے ملک میں جان بوجھ کر آئینی بحران پیدا کرکے ملک کی سیاسی فضا کو آلودہ کرنے چاہتے ہیں.

آصف علی زرداری کے مبینہ انٹرویوکو کاسٹ کرنے کے حوالے سے عوام الناس اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید ردعمل آرہا ہے اور مطالبہ کیا جارہاہےکہ اس انتہائی غیر قانونی اقدام کی تحقیقات کی جائیں اور جو لوگ آئین کو پامال کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے خلاف پیمرا ،قومی اسمبلی قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.