سابق صدر زرداری کو اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت پرجتنی خوشی ہوئی اتنی امریکہ کوبھی شاید نہیں تھی:براک اوبامہ

واشنگٹن :سابق صدر زرداری نےاسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت کو جتنی خوشی ہوئی اتنی امریکہ کوبھی شاید نہیں تھی:اطلاعات کے مطابق سابق امریکی صدر براک اوباما نے ایک بہت بڑا انکشاف کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی جتنی خوشی سابق صدر آصف علی زرداری کوہوئی اتنی شاید امریکہ کوبھی نہ ہوئی ہوگی ،

بی بی سی کے مطابق امریکہ کے سابق صدر براک اوباما اپنی نئی کتاب ’اے پرامسڈ لینڈ‘ میں لکھا ہے کہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں نیوی سیلز کے آپریشن میں القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اُن کا خیال تھا کہ سب سے مشکل فون کال پاکستانی صدر آصف زرداری کو ہو گی کیونکہ اس واقعے کے بعد ان پر پورے ملک سے دباؤ ہو گا کہ پاکستان کی سالمیت کی تضحیک ہوئی ہے۔

وہ لکھتے ہیں کہ ‘میں توقع کر رہا تھا کہ یہ کافی مشکل کال ہو گی لیکن جب میں نے ان سے رابطہ کیا تو ایسا بالکل نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی رد عمل ہو، یہ بہت خوشی کی خبر ہے۔‘

اوباما لکھتے ہیں کہ صدر آصف زرداری اس فون کال پر واضح طور پر جذباتی تھے اور انھوں نے اپنی اہلیہ بینظیر بھٹو کا بھی ذکر کیا جنھیں ’القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں نے ہلاک کیا تھا۔‘

اس کتاب کے دیباچے میں براک اوباما نے لکھا کہ جب انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے دور صدارت کی داستان تحریر کریں گے، تو ان کا خیال تھا کہ وہ 500 صفحات پر مبنی کتاب ہو گی جسے وہ سال بھر میں مکمل کر لیں گے۔ لیکن مزید تین سال، اور 200 مزید صفحات کے باوجود ان کی کہانی کا صرف پہلا حصہ ہی مکمل ہوا ہے۔

یہ کتاب براک اوباما کے بچپن سے لے کر ان کے پہلے دور صدارت کے سب سے اہم واقعے، مئی 2011 میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت تک کے واقعات تک محدود ہے۔ وہ اپنی آپ بیتی کا دوسرا والیم لکھ رہے ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس کی اشاعت کب ہو گی۔

سات حصوں اور 27 ابواب پر مشتمل کتاب کا آخری باب اسامہ بن لادن پر پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں کیے گئے حملے اور اس کی جامع منصوبہ بندی کے بارے میں ہے جس میں صدر اوبامہ لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے صدارت کا عہدہ سنبھالا تو اس وقت امریکی حکام نے اسامہ بن لادن کی کھوج لگانے کا سلسلہ تقریباً چھوڑ دیا تھا لیکن انھوں نے اس کو اپنی سب سے اوّلین ترجیح بنا لیا۔

اوبامہ لکھتے ہیں کہ انھوں نے اپنے قریبی مشیروں کو مئی 2009 میں ہی کہہ دیا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کی کھوج لگانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے منصوبہ بندی شروع کی جائے اور ہر تیس دن کے بعد انھیں اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

اس بارے میں امریکی صدر لکھتے ہیں کہ ان کے لیے سب سے ضروری امر یہ تھا کہ اس منصوبہ کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے اور نہ صرف امریکی انتظامیہ میں نہایت گنتی کے کچھ لوگوں کو اس کے بارے میں علم تھا، پاکستانی حکام تک اس منصوبے کی بھنک بھی نہ پڑنے دی گئی۔

’پاکستانی حکومت نے افغانستان کے معاملے پر ہمارا بہت ساتھ دیا لیکن یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ان کی فوج اور خفیہ اداروں میں چند ایسے عناصر ہیں جو ابھی بھی القاعدہ اور طالبان سے تعلقات قائم رکھتے ہیں اور ان کو بطور اثاثہ استعمال کرتے ہیں جن کی مدد سے انڈیا کو کمزور کیا جا سکے۔‘

براک اوباما لکھتے ہیں کہ جب فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو وہ وائٹ ہاؤس میں اپنی رہائش گاہ کے حصے ’ٹریٹی روم‘ میں موجود تھے اور ٹی وی پر باسکٹ بال کا مقابلہ چل رہا تھا۔

انھوں نے اپنی کتاب میں بتایا کہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکہ نے دو منصوبے بنائے تھے جن میں سے ایک تھا نیوی سیلز کے اہلکاروں کو پاکستان بھیجنا اور دوسرا قریبی فاصلے سے ڈرون حملہ کرنا۔

ان کے قریبی ترین رفقا میں سے اکثریت نیوی سیلز کو بھیجنے پر راضی تھی البتہ اس وقت کے نائب صدر اور سنہ 2020 کے صدارتی انتخاب کے فاتح جو بائیڈن ان میں سے نہیں تھے۔ اوباما لکھتے ہیں کہ جو بائیڈن نے ان کو صبر کرنے کا مشورہ دیا اور وہ نیوی سیلز کو بھیجنے کے خلاف تھے۔

براک اوبامہ لکھتے ہیں کہ سیکریٹری دفاع رابرٹ گیٹس بھی اس حملے کے خلاف تھے اور اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے جو بائیڈن نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ مشن کی ناکامی کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال انتہائی گھمبیر ہوگی اور یہ کہ ’اس حملے کی اجازت دینے سے قبل خفیہ اداروں کی جانب سے ایبٹ آباد کے مکان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا پورا یقین کر لیں۔‘

سنہ 2011 کو یکم اور دو مئی کی درمیانی شب کو کیے گئے حملے میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا۔

صدر اوباما اس پر لکھتے ہیں: ’بطور صدر میرے ہر بڑے فیصلے پر میں نے جو بائیڈن کی اس خاصیت کو سراہا ہے کہ وہ میری ہاں میں ہاں نہیں ملاتے اور مجھ سے سخت سوالات کرتے ہیں، اور انھی کی وجہ سے مجھے خود ذہنی طور پر وہ آسانی اور جگہ ملتی ہے تاکہ میں اپنے فیصلوں پر مزید سوچ بچار کر سکوں۔‘

اوباما لکھتے ہیں کہ جب نیوی سیلز نے تصدیق کر دی کہ القاعدہ کے سربراہ کو ہلاک کر دیا گیا تو ان کو کچھ تسکین حاصل ہوئی اور جس کے بعد انھوں نے سابق امریکی صدور بل کلنٹن اور جارج بش جونیئر کو اس خبر کی اطلاع دی اور اس کے بعد چند اتحادی ممالک سے رابطہ کیا۔

بشکریہ بی بی سی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.