آصف زرداری کے بعد نیب نے ایک اور اہم شخصیت گرفتار کر لی، 8 ارب روپے مالیت کی کرپشن کا الزام

0
51

قومی احتساب بیورو (نیب) نے آئی پی پیزسے متعلقہ 300 ارب کی مبینہ کرپشن کیس میں جاری تحقیقات پر نیب لاہور نے اہم پیش رفت کے طور پر سابق ڈی جی نیپرا ملزم سید انصاف احمد کو حراست میں‌ لیا ہے. ان پر مبینہ طور پر 8 ارب مالیت کی مبینہ کرپشن کا الزام ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملزم سید انصاف احمد نے دانستہ بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ (IPP) سے ٹھیکہ جات میں بجلی نرخ انتہائی مہنگے داموں مقرر کئے جو حکومتی خزانے کو 8 ارب کے نقصان کا موجب بنا. نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کی جانب سے 2010میں 200 میگا واٹ پر مشتمل پاور پلانٹ کی تنصیب کی گئی. معاہدہ کے مطابق تاحال 17 ارب روپے نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کو بجلی کی قیمت کی مد میں ادا کئے گئے ہیں. نیب کا کہنا ہے کہ ملزمان کی جانب سے 8 ارب روپے کی رقم صرف نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کو غیرقانو ی طور پر منتقل کی گئی. اسی طرح کہا گیا ہے کہ آئ پی پیز کیساتھ معاہدوں میں اختیارات کے ناجائز استعمال، مبینہ جعلسازی اور دھوکہ دہی سے غیر قانونی ٹیرف مقرر کئے گئے جسکی مد میں اربوں روپے کی زائد رقم آئ پی پیز کو ادا کی گئی. نیب لاہور آئی پی پیز میں مبینہ بدعنوانی کے دیگر 5 کیسز کی تحقیقات بھی جاری رکھے ہوئے ہے جس میں مبینہ طور پر اربوں روپے کے غبن کے شواہد حاصل ہو رہے ہیں.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب لاہور کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئی پی پیز کو غیر قانونی ادائیگیوں کا براہ راست اثر بجلی کے نرخ اور ملکی معاشی حالات پر ہوا ہے. ماضی میں اداروں کی آپس کی ملی بھگت عوام اور حکومت دونوں کو اربوں روپے کے نقصان کا موجب بنی. نیب حکام سابق ڈی جی ملزم سید انصاف احمد کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کیلئے کل احتساب عدالت لاہور پیش کرینگے. نیب کا کہنا ہے کہ دوران ریمانڈ ملزم سے شریک ملزمان کے حوالے سے اہم انکشافات اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں.

یاد رہے کہ نیب کی طرف سے ایک ہی دن میں دو بڑی گرفتاریاں‌ کی گئی ہیں. پہلے سابق صدر آصف زرداری کو گرفتار کیا گیا اور پھر اسی سابق ڈی جی نیپرا سید انصاف احمد کو حراست میں‌ لیا گیا ہے.

Leave a reply