کشمیر پاکستان کی شہ رگ عاصم مجیدکا بلاگ

کشمیر پاکستان کی شہ رگ عاصم مجید

یہ جملہ میرا نہیں بلکہ ایسے دور اندیش شخص کا ہے جس کی بصیرت کی گواہی زمانہ دیتا ہے۔ جی ہاں ! بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔
اس وقت ہر صاحب بصیرت کشمیر کی پاکستان کے لیے اہمیت کو جانتا ہے۔
آزادی کشمیر ہی

ہمارے آزاد پانیوں کی ضمانت
سی پیک کی کامیابی کی ضمانت
ڈیموں کی تعمیر کی ضمانت
معدنیات کے حصول کی ضمانت
سیاحتی کاروبار کی ضمانت
پاکستانں معیشت کی کامیابی کی ضمانت

اس میں کوئی شک نہیں آزادی کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے۔ کشمیری اپنے خون سے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔
میرے ہم وطنوں کشمیری خون بہا رہے ہیں وہ ہماری جنگ کے لیے شہادتیں پیش کر رہے ہیں ۔ شاید ہی کوئی گھر ہو جس میں کوئی شہید نہ ہو۔ شاید ہی کوئی گھر بچا ہو جس میں کسی ہماری ماں یا بہن کی عزتوں سے نہ کھیلا گیا ہو۔ کشمیر لفظ مظلومیت کا استعارہ بن چکا ہے۔
کشمیری شہادتوں پر شہادتیں پیش کر رہے ہیں وہ اپنے لاشے پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دنیا بھر کے انسانوں کو فیصلہ سنا رپے ہیں کہ کشمیریوں کا مستقبل پاکستان سے جڑا ہے۔ ان کے تین تین سال کے بچے پکار رہے ہیں
ہم چھین کے لیں گے آزادی
ہے حق ہمارا آزادی
آئیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی آواز پر لبیک کہیں۔ مسلمان تو ویسے بھی جسد واحد کی طرح ہوتے ہیں۔

قرآن اس کے متعلق فرماتا ہے۔

وَ اِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡکُمُ النَّصۡرُ

"اگر وہ دین کے بارے میں مدد طلب کریں تو تم پر مدد کرنا ضروری ہے” ( الانفال ، 72 )

آو میرے پاکستانیو!
کشمیریوں کی پکار کا جواب دیں
اپنے مال سے
اپنی دعاوں سے
سوشل میڈیا کی آواز سے
پر امن احتجاج سے
آئیں دنیا کے ضمیر کو جنجھوڑ ڈالیں۔ سوشل میڈیا ایک پانچویں نسل کی جنگ اس کو ہلکا نہ لیں اس محاز پر کشمیریوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلا دیں۔ فیس بک ، ٹویٹر انسٹا گرام ان کو تفریح کے لئے نہیں بلکہ آزادی کشمیر کی تحریک کے لیے استعمال کریں۔

میرے ہم وطنوں کشمیری سات دہائیوں سے اپنا خون پیش کر رہے ہیں آئیں ہم ان کے لیے پسینے بہا لیں۔ وہ کسی محمد بن قاسم ، خالد بن ولید اور صلاح الدین ایوبی کو پکار رہے ہیں۔ آئیں اپنے ذاتی، سیاسی اور معاشی اختلافات بھلا کر متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ کیونکہ جن کی شہ رگ دشمن کے قبضے میں ہو وہ سکون سے نہیں بیٹھ سکتے۔
میری ارباب اختیار سے گزارش ہے سفارتی زرائع کا بھر پور استعمال کریں۔ دنیا کے منصفوں کو بتا دیں کشمیری ہمارے بغیر نہیں رہ سکتے اور ہم کشمیریوں کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ہم تب تک سکون سے نہیں بیٹھیں کے جب تک پاکستان مکمل نہیں ہو جاتا۔ کیونکہ

ابھی تکمیل باقی ہے
ابھی کشمیر باقی ہے

اور اگر دنیا کے کان میں جوں نہیں رینگتی تو پھر
جیسے میجر جنرل آصف غفور صاحب نے کہا:
کہ ہم پاکستانی آخری گولی ، آخری سپاہی اور آخری سانس تک کشمیریوں کے لیے لڑیں گے۔
مودی سن لے !!

اِس پار ملی تھی آزادی
اس پار بھی لیں گے آزادی
ان شا اللہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.