fbpx

استعفے کی سیاست کرنے والوں کو اب تک استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا،بلاول

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ ہم عوام کی طاقت پر بھروسہ رکھتے ہیں،

بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ افغانستان کے معاملے پر پارلیمان کواعتماد میں لیاجائے،ثابت ہوگیا کہ حکومت انتخابات سے ڈرتی ہے،آزادکشمیر الیکشن وقت پرہونے چاہیے، دھاندلی کے لیے انتخابی اصلاحات پر آرڈیننس لارہے ہیں،حکومت انتخابی قوانین آرڈیننس سے تبدیل کررہی ہے،الیکشن کمیشن کو اس معاملے پر اسٹینڈ لینا چاہیے، وزیراعظم پر خود بھی الزام لگے توکچھ نہیں ہوتا،

بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ شرح نمو کے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں، آپ کشکول لے کر ہر ملک کیوں جا رہے ہیں، اب ہر ملک سے بھیک کیوں مانگ رہے ہیں؟آپ عرب ممالک جا کر بھیک کیوں مانگ رہے ہیں؟بجٹ پیش ہو گا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، آزادی صحافت پر حملے ہورہے ہیں آصف زداری کی باہر جانے کی کوئی خواہش نہیں،استعفے کی سیاست کرنے والوں کو اب تک استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا،

بلاول زرداری نے مزید کہا کہ آصف زرداری نے 3سال قبل کہا تھا کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ، وزیرخزانہ نے خود کہاہے کہ آئی ایم ایف پی ٹی آئی ڈیل غلط تھی،احتساب کے نام پر مذاق کیا جارہاہے عمران خان نے خود کہا تھا دو نہیں ایک پاکستان ہو، آج جو کچھ احتساب کے نام پر ہورہا ہے وہ انصاف نہیں انتقام ہے، وزیراعظم اور دوستوں پر الزام لگے تو کچھ نہ ہو، اپوزیشن لیڈروں کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے نواب شاہ کے صدر پرالزام لگے تو 3 سال جیل میں رہے، رائیونڈ کے وزیراعظم کو سزا کے باوجود باہر بھیجا جاتا ہے یہاں آئین اور قانون کے ساتھ گھناؤنا مذاق کیا جارہا ہے،سکھر کے قائد حزب اختلاف کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے، اپوزیشن لیڈر پنجاب کا ہو تو ضمانت مل جاتی ہے، وزیراعظم کی بہن پرالزام لگے توکچھ نہ ہو،یہ کس قسم کا ایک پاکستان ہے؟ عوام آپ کے ایم این ایز کو گریبان سے پکڑیں گے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.