fbpx

آج کل سیاست اور فوج کو موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، چوہدری شجاعت

گجرات :سابق وزیراعظم ملک کی سیاسی صورت حال سے پریشان ،اطلاعات کے مطابق n

سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ آج کل سیاست اور فوج کو موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چوہدری شجاعت حسین نے اپنی رہائش گاہ پر مسلم لیگی رہنماؤں سینیٹر کامل علی آغا، جواد بھلی، شافع حسین اور رضوان ممتاز علی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کل سیاست اور فوج کو موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ فوج کا سیاست میں کردار ہونا چاہئے یا نہیں، سیاست کا ڈکشنری میں مطلب اصلاح احوال ہے اور اس کا مطلب سیاسی، معاشی اور سماجی حالات درست کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہنگامی صورتحال ہو تو ملکی سلامتی اور بقا کیلئے حکومت اور افواج پاکستان کے درمیان تعاون لازم ہے کہ فوج اور حکومت باہمی اتفاق رائے سے فیصلہ کریں۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکومت کا اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے دفاعی اخراجات کو جواز بنا کر اپنی سیاست چمکانے اور تالیاں بجوانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا جانا چاہیئے، لیکن افسوس ہے کہ ایسے افراد قومی مفادات کو مد نظر رکھنے کی بجائے جلسوں میں تالیاں بجوانے اور نعرے لگوانے کیلئے ملک دشمن قوتوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جہاں تک سیاسی حکومت کے فرائض کا تعلق ہے اسے چاہیئے کہ وہ ملکی سلامتی اور بقا کو یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے، جب ضرورت پڑے تو آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے سیکیورٹی ایجنسیز افواج پاکستان کو اپنی مدد کیلئے طلب کرے، اس سلسلے میں تمام مالی و دیگر وسائل بروے کار لائے۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکومت معاملات کو سلجھانے میں اگر ناکام ہو جاتی ہے تو ملکی سلامتی کو خطرات لا حق ہو سکتے ہیں۔

سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین کا مزید کہنا تھا کہ اگر سول حکومت ایسی سنگین صورتحال میں وسائل فراہم کرنے میں ناکام ہو تو میری نظر میں افواج پاکستان اور سیکیورٹی ایجنسیز ملک کو ایسی سنگین صورتحال میں بھی خطرات سے باہر نکالنے کی ذمہ دار ٹھہرائی جائے گی۔