fbpx

آڈیو لیکس، تحقیقات کروائیں گے۔وفاقی وزیر داخلہ کا اعلان

اسلام آبااد:آڈیو لیکس، تحقیقات کروائیں گے۔وفاقی وزیر داخلہ نے یہ اعلان اس وقت کیا جب پورے ملک سے اس واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کا مطالبات بڑھ رہے تھے

آڈیو لیگ کے معاملے پر وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ باتیں پارلیمنٹ لاجز یا اسپیکرچیمبر میں کی ہوں اور وہاں سے لیک ہوئی ہوں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فون ہیک ہونا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے،

وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے اس حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کہ ‏ہو سکتا ہے کسی کا فون ہیک ہوا ہو اور باتیں ریکارڈ کی ہوں،آڈیو لیکس میں کوئی سیریس باتیں نہیں تھیں اس لیے احتیاط نہیں برتی گئی، آڈیو لیکس پر وزیر اعظم نے نوٹس لیا ہے، کل مشاورت ہوگی، یہ بھی ان کا کہنا تھا کہ آڈیو لیکس پر تحقیقات کاآغاز کیا جائے گا،

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس کی سیکیورٹی میں سے کوئی شخص ہو سکتا ہے،تحقیقات ہونے دیں ،اسکے بعد کارروائی کریں گے،وزیرداخلہ رانا ثنااللہ
آڈیو لیگ کے معاملے پر کہہ رہے تھے کہ ہو سکتا ہے یہ باتیں پارلیمنٹ لاجز یا اسپیکرچیمبر میں کی ہوں اور وہاں سے لیک ہوئی ہوں

یاد رہے کہ وزیراعظم ہاؤس کی مبینہ آڈیو لیک نے سکیورٹی پر سوالیہ نشان لگا دئیے، پاکستان مسلم لیگ نواز کی سینئر قیادت کے درمیان مبینہ طور پر ہونے والی گفتگو کا ایک آڈیو کلپ لیک ہو گیا ہے۔

آڈیو لیک میں مبینہ طور پر وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، سردار ایاز صادق ،احسن اقبال ،اعظم نذیر تارڑ و دیگر کی آوازیں شامل ہیں، دوران آڈیو میں قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی کے استعفوں کی منظوری کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔

آڈیو کلپ میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے استعفوں پر اپنی رائے دیتے ہوئے اور استعفوں کو قبول کرنے کے لئے لندن سے اجازت مانگتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
لیک ہونیوالے آڈیو کلپ میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ30 , 30 ارکان کو نوٹس دے رہے ہیں، ایاز صادق کا کہنا تھا کہ لسٹ بنا کر دیں گے کس کس کو ملنا ہے، لیڈر شپ اپروول دے دی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ 6 تاریخ کو کن 30 لوگوں نے پیش ہونا ہے، ان میں سے 6،7 کے استعفے قبول کرلیں گے جس پر ایاز صادق نے کہا کہ جن کے استعفے قبول نہیں کرنے کہہ دینگے دستخط ٹھیک نہیں تھے۔

واضح رہے کہ لیک ہونے والی آڈیو کلپ نے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے اور وزیراعظم ہاؤس کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔آڈیو لیک ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا وزیراعظم ہاؤس میں ایسے خفیہ ریکارڈنگ سسٹم لگے ہوئے ہیں جنہیں حکومتی ارکان بھی نہیں جانتے؟۔