ورلڈ ہیڈر ایڈ

میڈیا نے ن لیگ کے دور حکومت میں سرکاری اداروں میں ہونے والی 15 ہزار 673 ارب کی بے ضابطگیوں کو پی ٹی ۤئی سے منسوب کردیا۔آڈیٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ سال 18-2017 کی بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔

 

باغی انویسٹی گیشن سیل

 

میڈیا نے ن لیگ کے دور حکومت میں سرکاری اداروں میں ہونے والی 15 ہزار 673 ارب کی بے ضابطگیوں کو پی ٹی ۤئی سے منسوب کردیا۔آڈیٹر جنرل کی حالیہ رپورٹ سال 18-2017 کی بے ضابطگیوں سے متعلق ہے۔

۔آڈیٹر جنرل کی طرف سے مالی سال 2018-19 کی جو آڈٹ رپورٹ تین روز قبل پارلیمنٹ کو بھجو ئی گئی ہے۔یہ رپورٹ پی ٹی آئی حکومت سے متلعق نہ ہے۔رپورٹ میں 51 کیسز میں 14 ہزار 562 ارب کی کمزور مالی انتظامات کی نشاندہی کی گئی۔ اس رپورٹ کے سرورق پر سال 2018-19تحریر ہے۔تاہم یہ رپورٹ سال 2017-18کے ۤآڈٹ پر مشتمل ہے ۔جب ملک میں ن لیگ کی حکومت تھی۔تاہم میڈیا کی طرف سے اس آڈٹ رپورٹ کو پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت سے جوڑ نے کی کوشش کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں 292 ارب 97 کروڑ مالیت کے کیسوں میں قوانین کی خلاف ورزی اور بے ضابطگیوں جب کہ 26 ہزار 331 کیسوں میں اکاؤنٹنگ کی غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ۔ رپورٹ میں ایک لاکھ 85 ہزار 885 روپے مالیتکے کیسوں میں وصولیوں، زیادہ ادائیگیوں اور بے قاعدگیوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آڈٹ کی نشاندہی پر 4 ارب90کروڑکی وصولیاں کی گئیں جب کہ 4 کیسز میں ایک ارب کے استعمال کا ریکارڈ ہی فراہم نہیں کیا گیا۔آڈٹ رپورٹ میں دیگر 11 کیسز میں 86 کروڑ 20 لاکھ مالیت کی چوری، فراڈ اور بدعنوانیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ۔237 کیسوں میں 29کروڑ 1 لاکھ کی خلاف ضابطہ ادائیگیوں کی نشاندہی بھی رپورٹ کا حصہ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.