fbpx

اور جب رفیع نے اپنی ایک دن کی کمائی ایک سازندے کو دیدی

محمد رفیع بہت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے ان کی طبیعت میں کسی قسم کی لالچ نہیں تھی ہوتی تو وہ لتا منگیشکر کے ساتھ رائلٹی کے حصول کے معاملے میں‌کھڑے ہوتے. اسی طرح سے کہا جاتا ہے کہ کانگریس سرکار کا رفیع کا بہت احترام کرتی تھی اور اس کی وجہ پنڈت جواہر لال نہرو سے رفیع صاحب کا پیار اور احترام کا رشتہ تھا، ایک بار جواہر لال نہر و نے کہا کہ رفیع صاھب بتائیے میں آپ کے لئے کیا کر سکتا ہوں تو رفیع نے کسی مالی فائدے کی بات کرنے کی بجائے کہا کہ ریڈیو پر میرا نام رفیع بلایا جاتا ہے برائے مہربانی مجھے محمد رفیع بلایا جائے بس اتنی پابندی کروا دیجیے. پھر ایک بار یوں ہوا کہ رفیع ایک گانے کی ریکارڈنگ کے لئے کسی سٹوڈیو پہچنے وہاں دیکھا کہ ایک سازندہ باہر کھڑا ہے رفیع نے اس سے پوچھا بھئی

کیوں کھڑے ہو تو وہ بولا سر مجھے رات کو کہا گیا صبح تم آجانا میں آگیا ہوں تو اب کہا جا رہا ہے کہ ہمارے سازندے پورے ہو چکے ہیں میں اب کیا کروں. رفیع نے کہا کہ جب تک میں باہر نہ آجائوں تم کہیں نہ جانا وہ کھڑا رفیع کا انتظار کرتا رہا جب رفیع باہر آئے تو اپنے مینجر سے کہا اس کو آج کی ساری کمائی دیدو، مینجر نے دے تو دییے پیسے لیکن گاڑی میں جا کر کہا کہ رفیع صاحب یہ کیا کیا تو رفیع بولے جب وہ گھر سے نکلا ہو گا بیوی بچوں‌نے فرمائش کی ہوگی کہ یہ لیکر آنا وہ لیکر آنا، اگر یہ نہیں‌لیکر جا پائے گا تو وہ اداس ہوں گے، بیچارا بہت آس سے آیا تھا ہم نے مدد کر دی تو کیا فرق پڑتا ہے کوئی بات نہیں اور اس بات کو بھول جاو اب. رفیع کی سادگی اور انکی صلاحتیوں کے معترف ان کے حریف بھی تھے، کہا جاتا ہے کہ گلوکار طلعت محمود، محمد رفیع کے سینیئر تھے۔ لیکن محمد رفیع کے انتقال کے وقت وہ ان کے جسد خاکی سے لپٹ کر بین کر رہے تھے کہ پہلے تم نے میرا کریئر چھینا، اور پھر میرے حصے کی موت بھی چھین لی۔