fbpx

اورنگی اورگجرنالہ کیساتھ لیزمکانات مسمارکرنے کیخلاف حکم امتناع میں توسیع

سندھ ہائيکورٹ نے لیز مکانات مسمار کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف آپریشن روکنے کے حکم امتناع میں توسیع کردی ہے۔

منگل کو گجر نالہ اور اورنگی نالہ متاثرین کی آپریشن کےخلاف درخواست کی سماعت کےدوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ريمارکس ديے کہ سپریم کورٹ کا حکم نہیں تو لیز مکانات کیوں توڑ رہے ہیں۔کیا میڈیا رپورٹس پر نالوں کے اطراف لیز مکانات مسمار کیے؟۔
سندھ ہائيکورٹ نے کہا کہ جب تک سپریم کورٹ سے وضاحت نہیں آجاتی، مکانات مسمار کرنے کا آپریشن نہ کیا جائے۔لیزمکانات انکروچمنٹ میں نہیں آتے تو کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں ہوگی۔
عدالت نے گجر اور اورنگی نالے پر آپریشن روکنے پر حکم امتناع برقرار رکھتے ہوئے کے ایم سی، کمشنر کراچی، سندھ حکومت اور دیگر سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔ کیس کی سماعت اگست کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی گئی ہے۔

اس سے قبل منگل 18مئی کو ہونے والی سماعت میں مکانات مسمار کرنے پر وضاحت پیش نہ کرنے پرعدالت نے سندھ حکومت اور کے ایم سی پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔متاثرین کے وکیل ایڈوکیٹ فیصل صدیقی نےعدالت کو بتایا تھا کہ متاثرین نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے اور کے ایم سی نے بھی عدالتی حکم کی وضاحت کے لیے درخواست دائر کردی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا تھا کہ کے ایم سی آپریشن بھی کررہا ہے اور وضاحت کے لیے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کررہا ہے؟ جس پر سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ سپریم نے تجاوزات کو مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس حسن اظہر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے 99 سالہ لیز املاک کو مسمار کرنے کا حکم نہیں دیا اور جس ادارے نے لیز دی وہی گھروں کو مسمار کررہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.