fbpx

عورتوں کا لباس پہن کر طالبان کے خلاف احتجاج کرنے والے شہری پکڑے گئے پھر کیا ہوا؟ جانیں

چند افغان شہری عورتوں کا لباس پہن کر طالبان کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کہ طالبان نے انہیں پکڑ لیا-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی جس میں افغان طالبان کی بدری فورس نے چن افغان شہریوں کو عورتوں کا روپ دھارے احتجاج کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ویڈیو میں پکڑے جانے والے شہریوں کو کافی خوفزدہ دیکھا جا سکتا ہے-

جس کے بعد طالبا ن فورس نے ان شہریوں کا پہلے تو خوب مذاق بنایا تاہم بعدازاں انہیں قید کر لیا ان ان کے ساتھ کیا سلوک کیاجائے اس کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں-

واضح رہے کہ اس سے قبل افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چند خواتین نے طالبان کے خلاف احتجاج کیا اور عورتوں کو سیاسی اور بنیادی حقوق دینے کا مطالبہ کیا تھا کابل کے ایک چوک پر ہونے والے احتجاج کے دوران خواتین نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے اور خواتین نے مطالبہ کیا کہ عورتوں کو بھی سیاسی عمل کا حصہ بنایا جائے۔

اس دوران خواتین نے چہرے نہیں ڈھانپ رکھے تھے اور وہ طالبان کے خلاف نعرے بھی لگا رہی تھیں اس موقع پر طالبان جنگجو بھی موجود تھے جو اپنے خلاف احتجاج کے باوجود اِن خواتین کی حفاظت کرتے رہے۔

دوسری جانب سینئر طالبان رہنما وحید اللہ ہاشمی کا کہنا ہےکہ افغان خواتین کو مردوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق سینئر طالبان رہنما وحید اللہ ہاشمی نے کہا کہ افغان خواتین کو مردوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور اگر اس حوالے سے باضابطہ عملدرآمد ہوتا ہے تو خواتین کو سرکاری اداروں، بینکوں اور میڈیا اداروں میں کام کرنے سے روکا جائے گا۔

مطابق وحید اللہ ہاشمی نے کہا کہ خواتین کے اپنی مرضی کے مطابق کام کے حق سے متعلق عالمی برادری کے دباؤ کے باوجود طالبان اسلامی قوانین اور شریعت پر مکمل عمل کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے تقریباً 40 سال افغانستان میں شرعی نظام کے لیے لڑائی کی، شریعت مرد اور عورت کوایک ساتھ ایک چھت کے نیچے بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتی۔

وحید اللہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ خواتین کے میڈیا اور بینکوں جیسے اداروں میں کام کرنے پر بھی پابندی ہونی چاہیے جب کہ خواتین اور مردوں کے گھروں کے باہر رابطے کی اجازت خاص حالات میں ہوگی جس میں مثال کے طور پر مرد ڈاکٹر کی ضرورت ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں لازمی طور پر شعبہ طب اور تعلیم میں خواتین کی ضرورت ہوگی، ہم خواتین کے لیے الگ ادارے بنائیں گے جن میں علیحدہ اسپتال، یونیورسٹیز، اسکول اور مدرسے بھی شامل ہوں۔

دوسری جانب افغانستان کے دارالحکومت کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کام کرنے والی خواتین ڈیوٹی پر واپس آگئیں ہیں گزشتہ روز کابل ائیرپورٹ پر تعینات افغان پولیس کے اہلکار ڈیوٹیوں پر واپس آگئے تھے اور وہاں تعینات بدری فورس کے دستوں کے ساتھ چیک پوائنٹس پر موجود تھے۔

تاہم اب طالبان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ کابل ائیرپورٹ پر تعینات خواتین بھی ڈیوٹی پر واپس آگئیں اور اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں طالبان کی جانب سے خواتین کے کام کرنے کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں جن میں خواتین میک اپ کیے اور عبایا پہنے چیزوں کی تلاشی میں مصروف ہیں۔

دوسری جانب فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے بھی کابل ائیرپورٹ پر تعینات خواتین کی ڈیوٹیز پر واپسی کی تصدیق کی ہے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ کابل ائیرپورٹ پر کام کرنے والی 80 میں سے 12 خواتین ڈیوٹی پر واپس آگئی ہیں ڈیوٹی پر واپسی آنے والی رابعہ جمال کا کہنا ہے کہ گھر پر رہ کر پریشان تھی لیکن ڈیوٹی پر واپس آکر اچھا محسوس کررہی ہوں۔

ایک اور خاتون قدسیہ جمال کا کہنا تھاکہ گھر والے واپس کام پر جانے کے فیصلے سے خوفزدہ تھے اور مجھے منع بھی کیا لیکن میں واپسی پر خوش اور مطمئن ہوں۔

خیال رہے کہ طالبان نے کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد حامد کرزئی ائیرپورٹ کا نام تبدیل کرکے کابل انٹرنیشنل ائیرپورٹ رکھا ہے۔