fbpx

آئین شکنوں کےخلاف آرٹیکل 6کی کاروائی،پنجاب اسمبلی میں قرارداد

سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت آئین شکنی کے مرتکب افراد کےخلاف آرٹیکل 6کی کاروائی کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی گئی.قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی.قرارداد کے متن میں میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا آئین پاکستان کے تحفظ کا فیصلہ قابل تعریف ہے.

آرٹیکل 6 ایسا ہتھیار نہیں کہ ہرکسی پرچلا دیں: اعتزاز احسن

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آئین شکنی کے مرتکب افراد کی نشاندہی کی ہے،سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اور فواد چوہدری نے دانستہ طور پر آئین شکنی کی،صدر عارف علوی ،عمران خان اورسابق سپیکر اسد قیصر بھی آئینی شکنی کے مرتکب ٹھہرائے گئے ہیں،سپریم کورٹ نے آئین پاکستان کا کھلواڑ کرنے والی کی نشاندہی کی ہے.

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آئینی کے مرتکب افراد کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے،

 

الیکشن کمیشن کا عمران خان کے الزامات پر نوٹس، پیمرا سے ریکارڈ طلب کرلیا

 

علاوہ ازیں صدرعارف علوی، عمران خان و دیگرکیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کیلئے سینیٹ میں قرارداد جمع کرا دی گئی.مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے حوالے سے فیصلےکے تحت آرٹیکل 6 کی،کارروائی کے لیے سینیٹ میں قرارداد جمع کرادی۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے سینیٹ میں قرارداد جمع کرا دی ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہےکہ صدر مملکت عارف علوی، عمران خان ، فواد چوہدری اور قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کی جائے۔قرارداد کے متن کے مطابق صدر مملکت عارف علوی کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا آغاز کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخود نوٹس کے تفصیلی فیصلے پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اضافی نوٹ لکھا جس میں ان کا کہنا ہےکہ اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، صدر اور وزیراعظم نے 3 اپریل کو آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کی، اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے صدر اور وزیراعظم کی اسمبلیاں تحلیل کرنے تک کی کارروائی عدم اعتماد ناکام کرنے کیلئے تھی۔

مزید برآں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ بار بار جھوٹ بول کر قوم کو گمراہ کرنے والوں کا ایک اور جھوٹ آشکار ہو گیا۔ الزام خان کی جھوٹ اور الزام تراشی کی سیاست کا پول کھل گیا ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے جس نے نظریہ ضرورت کو ایک بار پھر دفن کر دیا۔

وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ صدر عارف علوی ، اس وقت کے وزیراعظم عمران خان ، ڈپٹی سپیکر اور وزیر قانون نے آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا لیکن آئین شکنی کے مرتکب ہوئے۔آئین سے انخراف کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا پڑے گا، جس سے مستقبل میں ایسے آئین شکنوں کا رستہ رکے۔

وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 5 کو آئین کی خلاف وری کے لیے استعمال کیا ۔ آئین سے کھلواڑ کرنے والوں پر آرٹیکل 6 لگے گا ۔ یہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے نے پی ٹی آئی کے سازشی بیانیہ کو بھی دفن کردیا۔ قوم محب وطن اور لیٹروں میں فرق کو جان چکی ہے۔