ایودھیا، انعام یافتہ سندیپ پٹیل کو کیوں حراست میں لیا بھارتی حکومت نے

بھارتی حکومت کامسلسل دعوی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں حالات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں، لیکن حکومت جموں و کشمیر پر کسی کو بھی بولنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ پہلے کانگریس رہنماﺅں کو کشمیر پر پریس کانفرنس سے پہلے گرفتار کیا گیا، اور اب کشمیر معاملے میں پریس کانفرنس کرنے ایودھیا پہنچے انعام یافتہ سندیپ پانڈے کو بھی پولیس نے اپنی حراست میں لے لیا ہے۔

ایسے ماحول میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر جموں و کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہے جس کا بھارتی حکومت اور میڈیا کی جانب سے تواتر سے کیا جا رہا ہے تو لیڈروں اور سماجی کارکنان کو پریس کانفرنس سے کیوں روکا جا رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کشمیر سے دفعہ 370 اور 35 اے کو ہٹائے جانے کی سندیپ پانڈے سخت مخالفت کر رہے ہیں اور اسی حوالے وہ پریس کانفرنس کرنے والے تھے۔

قبل ازیں سندیپ پانڈے نے انتظامیہ پر قومی معاملات کے حوالہ سے بات نہ کرنے کی اجازت کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے اظہارِ رائے کی آزادی ختم ہو رہی ہے۔ سندیپ پٹیل کے مطابق گزشتہ تقریباً ایک ہفتہ کے دوران پولس نے انھیں کئی قومی معاملات پر اپنی بات رکھنے سے کئی بار روکا۔11 اگست، 16 اگست اور 17 اگست کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی خطرے میں ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.