آزادی اظہار رائے بقلم: انجینئر محمد ابرار

آزادی اظہار رائے

مملکت خداد پاکستان کو اللہ تعالی نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے.پاکستان گیس اور کوئلہ کے زخائر سے مالامال ہے. پھر بھی پاکستان معاشی طور پر بہت کمزور ہے. پاکستان کے تنزلی کے اسباب میں ایک سبب یہاں کی عوام کی غالب اکثریت کی آواز کو دبانے کی کوشش کرنا بھی یے. حالیہ دنوں میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے قومی اسمبلی سے بل پاس کروائے ہیں. جن میں محکمہ اوقاف کے متعلق اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے بھی بل موجود تھے. قومی اسمبلی کے اجلاس کے بعد اپوزیشن نے متفقہ فیصلہ کے تحت آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا.جناب نواز شریف صاحب نے وڈیو لنک خطاب کیا عندیہ دیا جس کے نتیجے میں حکمران جماعت کے شہباز گل صاحب نے اسکے خلاف پیمرا کو استعمال کرنے کا کہا مگر پھر سابقہ وزیر اعظم کی تقریر نشر کی گئی حالانکہ ان پر نیب کی جانب سےکرپشن کے چارجز موجود ہیں اور انکے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر کہ لندن ہائی کمیشن کے ذریعے ان کو وصول کروائے جا چکے ہیں.
2018 کے عام انتخابات میں حکمران اور دیگر سابقہ جماعتوں کے علاوہ ایک جماعت تحریک لبیک پاکستان نے بھی پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا اور 22 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے. ملکی تاریخ میں پہلی پار کسی مذہبی سیاسی جماعت نے رجسٹرڈ ہونے کے فوراً بعد محض چند ماہ کی الیکشن کمپین میں اتنی کثیر تعداد میں ووٹ حاصل کیے. تحریک لبیک پاکستان کے امیر علامہ خادم حسین رضوی ناموس رسالت و ختم نبوت کی تحاریک کا ماضی میں بھی حصہ رہے اور غازی ممتاز حسین قادری کی رہائی کی بھرپور تحریک چلاتے رہے جو بعدازاں تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مشہور ہوئی. پاکستان میں ختم نبوت قانون میں تبدیلی ہو یا ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا معاملہ، علامہ خادم رضوی میدان عمل میں موجود رہے اور انہی کے اسلام آباد کی طرف مارچ کی بدولت ہالینڈ نے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ کیا. جبکہ حکمران جماعت کے چند وزراء اس پر بغلیں بجاتے اور کریڈٹ لیتے نظر آئے.
حال ہی میں فرانس کے ایک میگزین نے گستاخانہ خاکوں کو شائع کرنے کا اعلان کیا یے جس کے ضمن میں تحریک لبیک پاکستان نے ملک بھر میں پر امن احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا اور عوام کی کثیر تعداد نے ان ریلیوں میں شرکت کی. علامہ خادم حسین رضوی کی پنجاب اسمبلی کے سامنے ریلی سے خطاب کے بعد پولیس اور مقتدر قوتوں نے علامہ صاحب کو گرفتار کرنے کی ٹھانی اور ایک معذور شخص کو گرفتار کرنے کے لئے پولیس کی 6 وین بمعہ عملہ، اسلحہ و سازوسامان روانہ کر دی گئیں. مگر کارکنان کے بروقت پہنچنے اور علاقہ کے خواتین کے بھی سڑکوں پر آجانے کے باعث پنجاب پولیس کو پسپائی اختیار کرنا پڑی. نواز شریف صاحب اور دیگر پارٹیز کے کرپٹ حکمران جو کرپشن چارجـز کی وجہ سے جیل میں رہے میڈیا کی جانب سے انکا بیانیہ جاری کیا جاتا رہا مگر تحریک لبیک پاکستان جو کہ ایک پر امن مذہبی سیاسی جماعت ہے انکی کسی ریلی کسی احتجاج کسی بیان کو براہ راست میڈیا نے کوریج نہ دی. مملکت پاکستان کے باوقار شہری ہونے کے ناطے ہر کسی کی آواز کو میڈیا تک پہنچنے اور اسے نشر ہونے کا حق ملک کا آئیں و قانون دیتا ہے مگر ہمارے ملک میں پیمرا اور دیگر چینلز تحریک لبیک کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہے ہیں. بقول مفتی اعظم پاکستان اگر پاکستان میں اعتدال کی فضا نہ قائم کی گئی اور ایک غالب اکثریت رکھنے والے طبقے کو یوں ہی نظر انداز کیا جاتا رہا تو ملک میں انارگی، انتشار اور شدت پسندانہ جذبات کی ترویج ہوگی.
نواز شریف صاحب کی تقریر آزادی اظہار رائے کی آڑ میں تمام.چینلز پر نشر کی گئی مگر وہ جماعت جس کے امیر اور کسی عہدیدار پر کسی قسم کے کرپشن چارجز نہیں ہیں انکی ہر تقریب پر میڈیا نے بلیک آؤٹ کیا. کیا یہی میانہ روی اور انصاف ہے. کیا اس طرح ملک ترقی کرے گا.
ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں دیگر کرپٹ حکمرانوں جن کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے اور جو کرپشن چارجز کی زد میں ہیں ان کو میڈیا کوریج دی جاتی ہے ان کے خطابات نشر کئے جاتے ہیں وہاں تحریک لبیک پاکستان کو بھی آزادی اظہارِ رائے کے تحت مکمل آزادی کے ساتھ میڈیا پر اپنا اعلامیہ پیش کرنے کی کھلی اجازت ہونی چاہئیے. میڈیا چینلز کے سوتیلی ماں جیسے سلوک کی بناء پر ایک غالب اکثریت والے طبقے کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں جس کا واحد حق بلا تفریق آزادی اظہارِ رائے ہے.

انجینئر محمد ابرار

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.