fbpx

آزاد کشمیر انتخابات.. تحریر:خنیس الرحمٰن

اس وقت آزاد کشمیر میں انتخابات کا شور سنائی دے رہا ہے۔ہر شخص اپنی من پسند پارٹی اور امیدوار کو سپورٹ کررہا ہے۔الیکشن میں تقریباََ بیس دن باقی ہیں۔جوں جوں پولنگ کا دن قریب آرہا ہے سیاسی جماعتوں میں ایک نیا جوش اورولولہ محسوس کیا جارہا ہے۔جہاں تحریک انصاف،پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار و کارکنان جیت کے لیے پرعزم ہیں وہیں کچھ نئی جماعتیں بھی اس سیاسی اکھاڑے میں قدم رکھ کر جیت کے لیے پرعزم ہیں۔لیکن اصل مقابلہ تین بڑی جماعتوں کے درمیان ہے۔ سب جماعتوں کے قائدین اپنی جماعتوں کو جتوانے کے لیے سر توڑ کوششیں کررہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے بھی کشمیر کا دورہ کیا۔وہ آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے اپنے دورے کے دوران کوٹلی کے علاقے ہجیرہ میں خطاب کے دوران کہا کہ جیالے بھاری اکثریت سے کامیاب ہونگے،آزاد کشمیر میں اگلی حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی۔اس دوران وہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں اپنے امیدواران کی کارنر میٹنگز اور جلسوں سے خطاب کررہے ہیں۔انہیں آزاد کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کا خدشہ ہے۔انہوں نے کوٹلی میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں دھاندلی کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ یہ خود دھاندلی کے ذریعے ملک پر مسلط ہوئے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی بات کی جائے تو گذشتہ پانچ سال انہوں نے کشمیر میں حکومت کی۔مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر کی سیاسی مہم کے لیے مریم نواز صاحبہ کو میدان میں اتارا ہے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں گلگت بلتستان کے انتخابات میں مریم نواز صاحبہ نے بھر پور مہم میں حصہ لیا لیکن وہاں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ شہباز شریف بھی مریم نواز کے ساتھ مل کر کشمیر کی انتخابی مہم چلائیں گے۔مریم نواز آٹھ جولائی کو کشمیر میں اپنی مہم کا آغاز کریں گی۔

پاکستان تحریک انصاف بھی کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔تحریک انصاف کی طرف سے علی امین گنڈا پور پہلے سے ہی مظفر آباد میں موجود ہیں اور مہم چلا رہے ہیں۔سردار تنویر الیاس بھی بھر پور متحرک ہیں،سردار تنویر الیاس نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔اس دوران وزیر اعظم کے کشمیر دورے کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

تمام بڑی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مسلم کانفرنس،جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں بھی الیکشن کی بھر پورتیاری کررہی ہیں۔سابق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ حمید گل کی جماعت بھی حصہ لے رہی ہے۔اس کے علاوہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں تحریک لبیک اور جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ بھی حصہ لے رہی ہے،دونوں جماعتوں کا کشمیر کی سیاست میں پہلا قدم ہے۔تحریک لبیک پر شروع میں پابندی بھی لگائی گئی لیکن الیکشن کمیشن نے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کے ترجمان سردار حمزہ رافع نے بتایا کہ وہ تمام حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کر چکے ہیں،ان کا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں وہ کشمیر کی محرومیاں دور کرنا چاہتے ہیں اور بلدیاتی الیکشنز بحال کروانا ان کے منشور کا حصہ ہے،انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر موومنٹ کے سربراہ سردار بابر حسین تحریک انصاف سے منسلک رہے اس کے بعد انہوں نے اپنے چند نظریاتی رفقاء کے ساتھ مل کر جماعت کی بنیاد رکھی ۔انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی مہلک وباء میں موومنٹ نے خدمت خلق کا کام بھی کیا ,بھوکوں تک کھانا پہنچایا اور گھر گھر جاکر کورونا سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی دی اور آئندہ بھی خدمت کے کام کرتے رہیں گے .گذشتہ روز سوموار کے دن اسلام آباد پبلک سیکرٹریٹ میں امیدواران سے گفتگو کرتے ہوئے سردار بابر حسین نے کہا کہ عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پچیس جولائی کو کرسی پر مہر لگا کر اسے کامیاب بنائیں،ہمارا مقصد کشمیر کی تحریک کو اجاگر کرنا ہے۔بلدیاتی انتخابات کے لیے ریاست کو مجبور کریں گے تاکہ نوجوان قیادت اوپر آئے اور کشمیر کی تعمیر و ترقی میں اپنا کرادار ادا کرے۔سردار بابر حسین خود بھی سہنسہ،پنجیڑہ کے حلقے سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور حلقے میں کارنر میٹنگز کررہے ہیں۔آزاد کشمیر کی فتح کا تاج کس کے سر سجے گا اب اس کا فیصلہ عوام پچیس جولائی کو کرے گی۔