fbpx

مستحکم آزاد کشمیر ہی مقبوضہ کشمیر کی آواز تحریر : حمزہ علی

آزاد کشمیر میں الیکشن کی آمد آمد ہے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کیلئے سب سیاسی کارکنان متحرک ہو چکے ہیں ایسے میں جن لوگوں کی پوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہے وہ سیاسی ہتھکنڈے استعمال کر رہے اور ریاست مخالف بیانیے استعمال کرنے کی حد تک بھی جا رہے ہیں جس سے یہ بات پتا چلتی ہے کہ یہ لوگ اپنی کرسی کی خاطر کسی بھی قسم کے بیانیہ کا سہارہ لے سکتے ہیں ریاست مخالف سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنے میں ن لیگ اور مہاراج فاروق حیدر صاحب صف اول میں نمایا نظر آ رہے ہیں مریم نواز تو کلیبری فونٹ اور لندن فلیٹس کا جھوٹ بولتے تو پکڑائی جا چکی ہیں لیکن اب فاروق حیدر بھی مریم نواز کی ایماء پر آہستہ آہستہ ریاست مخالف اور منفی سیاست باتیں کر رہے ہیں ایسے میں ہی دوسری طرح کا سیاسی ہتھکنڈہ تحریک آزادی کشمیر کے کرداروں کے نام استعمال کرکے ہو رہا ہے مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان صاحب ہوں یا پھر سردار ابراہیم خان صاحب مختلف حلقوں سے ان کے نام پر بنائی گئی جماعتوں کے نام کو ہی حرف آخر اور کشمیر کی اصل وارث جماعتیں قرار دیا جا رہا ہے ایسے میں اگر تحریک انصاف نے کشمیر کی سیاست میں شمولیت اختیار کی جو کہ اب اکثریتی بنیاد پر حکومت بھی بنانے جا رہی ہے تو اس میں تحریک آزادی کشمیر کے کرداروں کے ناموں کا استعمال کرکے تحریک انصاف کے خلاف منفی سیاست کو عروج بخشا جا رہا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ سردار عبدالقیوم خان صاحب اور سردار ابراہیم خان صاحب کا آزاد کشمیر کی سیاست میں تا قیامت نام رہے گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تحریک آزادی کے مجاہدین کے نام پر بنائئ گئی جماعتیں آزاد کشمیر کو اپنی جاگیر سمجھ لیں آزادی کی مسلح جدوجہد 47 تک تھی اور اس کے بعد اب بھارت پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان یہ تنازعہ باقی رہ گیا ہے اس سے ریاستی یا غیر ریاستی جماعتوں کا تعلق 47 میں ختم ہوگیا تھا اب چونکہ آزاد کشمیر کہلایا ہی پاکستان کیلئے آزاد کشمیر تھا تو اس میں پاکستان کی جماعتیں براہ راست شمولیت اختیار کرسکتی ہیں اور کارکردگی کی بنیاد پر حکومت قائم کر سکتی ہیں

پاکستان تحریک انصاف کے چئرمین اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا ہمیشہ سے ہی یہ بیانیہ رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف و صرف کشمیریوں کی مرضی اور امنگوں کے مطابق حل ہوگا اور پاکستان یا بھارت براہ راست اس پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتا جب تک یہاں کے رہنے والے اس کا خود سے فیصلہ نا کرلیں

ایسے میں تحریک آزادی کشمیر کے نام پر بنائئ گئی جماعتوں حتی کے غیر ریاستی جماعتیں ن لیگ اور پپلز پارٹی کا منفی پراپگیبڈہ اور یہ دعوی کرنا کہ ان کو اس بنیاد پر ووٹ دیا جائے کہ وہ ریاستی تشخص یا تقسیم کشمیر بچانے کیلئے حکومت میں آئیں گی تو یہ بات کسی بھی دھوکے سے کم نہیں

مریم نواز جو "بچہ بچہ کٹ مرے گا کشمیر صوبہ نہیں بنے گا” کا نعرہ لگا رہی ہیں ان کی ہی جماعت ن لیگ کے 2016 کے منشور میں آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کا ذکر موجود ہے جس سے ن لیگ کی منافقت عیاں ہوجاتی ہے

آزاد کشمیر میں اس وقت سب سے بڑی ضرورت تعمیر و ترقی، نا انصافی کو ختم کرنا اور اداروں کو متحرک کرنا ہے جو کہ پاکستان تحریک انصاف کے آنے کے بعد ہی ممکن نظر آتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف جس کی بنیاد انصاف اور کرپشن کے خاتمے کیلئے ہے مجھے پوری امید ہے کہ اگر وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی (جو کہ ہوتی ہوئی نظر بھی آ رہی ہے) تو 2026 تک نمایاں تبدیلی اور اس کا ثمر حاصل ہوگا

اسلئے آئیں اور تحریک انصاف کے منشور تعمیر و ترقی، نا انصافی کو ختم کرنے اور کرپشن کے خاتمے کیلئے اس جماعت کو کامیاب کریں اور کسی بھی نظریاتی یا تحریک آزادی کے مجاہدین کے ناموں کو استعمال کرکے ایموشنل بلیک میلنگ سے محفوظ رہیں آزاد کشمیر میں اس وقت اجتماعی مفادات اور تعمیر و ترقی ہی صرف اب لازم ہے اگر آزاد کشمیر معاشی و اقتصادی مضبوط ہوگا تو ہی جا کر مقبوضہ کشمیر کی کچھ مدد کی جا سکے گی وگرنہ نظریاتی اور تحریک آزادی کے نعرے لگا لگا کر کچھ حاصل نہیں ہونے لگا ہے اس کیلئے تحریک انصاف کے وزن کو کشمیر میں پوری قوت کے ساتھ لانا ہوگا تاکہ مستحکم آزاد کشمیر کے ذریعے بیس کیمپ سے مقبوضہ کشمیر کیلئے آواز اٹھائی جا سکے