fbpx

آزاد کشمیر کی صحافت تحریر: ذیشان وحید بھٹی

میری اپنی سمجھ کے مطابق صحافت قوموں کی آزادی و خودمختاری میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اور آزادی کے خیالات کو پھیلانے اور ان کی نشونما کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے مجھے اس کی تازہ ترین مثال بھارتی مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کے کردار سے دی جاسکتی ہے کے وہاں سے صحافیوں نے اندرونی اور عالمی سطح پر اس تحریک کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور پھر وہاں سے جو ایک اخبار کا غالبًا سیری نگر فلیش نکلتا ہے بقول ایک انگریز "ٹورسٹ” اس کو نکالنے والے کشمیری صحافی جن خطرناک حالات میں اسے نکالتے ہیں اس سے ان کی اپنی پیشہ اور قوم کے ساتھ جنون کی حد تک وابستگی کا پتا چلتا ہے یوں دیکھا جائے تو باقی مقبوضہ کشمیر میں الحاق ہندوستان کی قوتیں اپنا کردار صحیح طرح سے ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں کیوں کہ وہاں سے موجود مسلح تحریک کے شروع ہونے سے پہلے 22 روزنامہ اور بیسیوں ہفت روزے اور ماہنامے نکلتے تھے لیکن آزاد کشمیر میں الحاق پاکستان کی قوتوں نے اپنا کردار اس بھرپور طریقے سے ادا کیا ہے کہ یہاں صحافت بیچاری کا جنم ہی نہیں ہوسکا بالکل معیست کی طرح خدا خدا کرکے ایک روزنامہ آزادی نکلا تھا سنا ہے کے وہ بھی نہ نکلنے کا پابند ہوگیا ہے۔جس طرح باقی میدانوں میں آزاد کشمیر پاکستان کے سرمایا کاروں کی منڈی ہے اس طرح صحافت کی منڈی پر بھی پاکستان کے سرمایہ کاروں کی آجارہ داری ہیں اور آزاد کشمیر کا کوئی اخبار "جنگ” اور "نوائے وقت” کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور یہ دونوں اخبار الحاق کی تحریک کو پاکستان کے حکمرانوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق آگے بڑھا رہے ہیں اور آزاد کشمیر کی حکومتیں بھی آج تک اس میں کامیاب رہی ہیں کے یہاں سے کوئی اخبار نہ نکلے جس کی وجہ سے اس خطے میں افراد میں صحافتی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں وہ پاکستان کے ان اخباروں کے علاقائ رپورٹروں اور تقسیم کاروں سے آگے نہیں بڑھ سکتے یوں کشمیر کے اس خطے کے اخبار بینوں کا سیاسی اور سماجی شعور براہ راست پاکستانی اخبارات اور ان کے ذریعے پاکستان کے حکمرانوں کی مٹھی میں رہتا ہے اور ان کے مفادات کے مطابق "پروان "چڑھتا ہے۔
نام : ذیشان وحید بھٹی
ٹویٹر آئ دی :
@zeeshanwaheed43