fbpx

آزاد کشمیر کی سیاست تحریر: ذیشان وحید بھٹی

تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں دیگر شعبوں کی طرح سیاست پر بھی سامراج کے گماشتہ حکمرانوں کا قبضہ ہے جو اسے سامراج کے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاست کا مطلب لوٹ کھسوٹ اور غنڈہ گردی بن گیا ہے۔آزاد کشمیر چونکہ غلاموں کے غلاموں کا غلام ہے اس لیے یہاں صورتحال مزید پتلی ہے اور کسی سے بھی پوچھئے سیاست کا کیا مطلب ہے تو وہ کہے گا کہ ایمانی،جوڑ توڑ، جھوٹے قرآن اٹھانے،پیسے دے کر ووٹ خریدنے اور برادری ازم کو ہوا دینا۔ جس طرح تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں عالمی سامراجی اپنی معاشی قبضے کی بنیاد پر سیاست میں اس کے دوام کے لیے درکار بنیادوں کو پکا کرنے کے لیے مداخلت کرتے ہیں اسی طرح آزاد کشمیر کی سیاست میں پاکستان کے سیاست کار بھی اپنے اپنے مفادات کی خاطر مداخلت کرتے ہیں اسلامی بازو والے ہو یا عوامی بازو والے "آزاد کشمیر کی بات چلی تو سب ہی ایک ہوئے”کے مصداق کھل کر اور ڈٹ کر مداخلت کرتے ہیں اور الیکشن ہوجانے کے بعد اور عوام کی طرف سے اپنے” نمایندے” اور "خادم” چن لینے کے بعد اگر پاکستان میں حکومت بدل جائے جو مزاج یار کی طرح بدلنے میں دیر کم ہی لگاتی ہے تو آزاد کشمیر میں بھی مطلع ابر آلود ہو جاتا ہے اور ننھا منا دارالحکومت مسند کے اوپر بیٹھی ہوئی کٹھ پتلیوں اور نیچے بڑھتی ہوئی کٹھ پتلیوں کی "پجارووں” کی گرگراہٹ سے لرزنے لگتا ہے اور یہاں نام کی صاحبان اقتدار کو بورے بورے خیالات آنے لگتے ہیں اور ہول اٹھنے لگتا ہے کے ہو نہ ہو کہیں کوئی بات ہوئی ضرور ہے جو میرے تخت پر کپکپی طاری ہے۔
اس کے علاوہ سیاست کے میدان میں الحاق کی قوتوں نے کہیں زیادہ بڑی کامیابیاں حاصل کر رکھی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ الحاق کر بھی چکے ہیں تو بے جا نہ ہوگا انتخابات میں حصہ صرف وہی لے سکتا ہے جو الحاق کا وفادار ہو اور پھر جس طرح انتخابات ہوتے ہیں اور اس کے بعد پاکستان کے صدر یا وزیراعظم کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اس میں اور پاکستان کے صوبوں کی حکومتوں میں فرق صرف یہی ہوتا ہے کہ” کاغذوں میں "وہ صوبے ہیں اور یہ” آزاد” عملی طور پر جس طرح وہاں پاکستان کے مرکزی سیاست کاروں کی "ڈانگ سوٹی”کے بغیر حکومت بن یا رہ نہیں سکتی اسی طرح یہاں بھی جب تک اسلام آباد سے مولوی صاحب نہ آئیں اقتدار کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا اور اس کے بعد اسلام آباد سے مہاراجہ چائیں یہ منسوخ یا کالعدم بھی ہو جاتا ہے ۔
یوں دیکھا جائے تو سیاست کے میدان میں بھی الحاق کی تحریک میں نمایاں کارہاے نمایاں سر انجام دیے ہیں اور انتخابی اور حکومتی ڈھانچے کی نوعیت اور فطرت میں یہ صفت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے کے اوپر سے جو حکم آئے اس کا یعنی ہماری آزاد حکومت کے ڈھانچے کا انگ انگ پکار اٹھے "سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے”

ٹویٹر آئ دی :
@zeeshanwaheed43