fbpx

آزاد کشمیرکی معیشت . تحریر: ذیشان وحید بھٹی

اگرکوئی یہ سوال کرے کہ آزاد کشمیرکی معیشت کیا ہے تو جواب یہ ہے کہ ایک آزاد کشمیر کی کوئی معیشت نہیں ہے کیونکہ معیشت کا مطلب ہوتا ہے پیداوارکے ذرائع اوروسائل کا اسطرح سے انتظام کہ کم سے کم وسائل ضائع ہوں جبکہ اپنے ہاں صورت حال ایسی ہے کہ جیسے معیشت کا مطلب ہو وسائل کا ایسا انتظام ہو کے کم سے کم وسائل استعمال ہوں اور زیادہ سے زیادہ ضائع ہوں۔ یہ بھی الحاق پاکستان کی طرف ایک قدم ہے کہ آزاد کشمیرکی معیشت آزاد کشمیرکے کنٹرول میں نہ ہو بلکہ اس پرپاکستان کی نوکرشاہی، صنعت کاروں اور گماشتہ سرمایہ داروں کا قبضہ ہو تاکہ آزاد کشمیر کے اندرصنعت اورحرفت کی وبا نہ پھیل سکے اوریہ خطہ بدستور پاکستان کے مذکورہ بالا طبقوں کی منڈی بنا رہے اورآزاد کشمیر میں زیادہ سے زیادہ چھوٹا تاجر پیدا ہوسکے جس کو زیادہ بڑا کاوبارکرنا ہے وہ پنڈی لاہوراور کراچی جائے۔

سوال کیا جا سکتا ہے اور اکثرارد گرد سے بے خبراپنے آکاؤں کے افکاراورخیالات کے بغیرسوچے سمجھے جگالی کرنے والے کرتے بھی ہیں کے آزاد کشمیر میں ہے ہی کیا کہ یہاں کی معیشت کا کوئی ڈھانچہ اٹھ سکے؟؟؟ لیکن اس کا جواب سیدھا سادہ سا ہے کہ سرمائے کے لحاظ سے یہ خطہ پاکستان کے امیرترین خطوں میں سے ہے آزادکشمیر کے بینکوں کا کڑوروں روپیہ (کوئی پانچ چھ سال پڑانی ایک تحقیق کے مطابق ڈدیال کے ایک علاقہ چھتڑو کے گرد و نواح جہاں کی آبادی تین ہزارتھی وہاں بینکوں میں پانچ کروڑ روپیہ تھا )اسی طرح ڈڈیال اورمیرپوروغیرہ کے بینکوں کا اربوں روپیہ مقامی سطح پرنہیں بلکہ کراچی اورلاہورکے صنعت کاراستعمال کرتے ہیں۔

اس وقت تقریبا ایک ملین یعنی دس لاکھ کشمیری مزدوراورمحنت کش مشرقی وسطیٰ اوریورپ وامریکہ میں آباد ہیں اورآزاد کشمیرکی آدھی آبادی کا روزمرہ کا خرچ اٹھانے اورہزاروں کو تعمیراتی شعبے میں مزدوری فراہم کرنے اورسینکڑوں بے روزگار "پوسٹ گریجویٹوں” اور وکیلوں کو پلاٹوں کی خرید و فروخت کاشغل مہیا کرنے اوربیسیوں کو پراپرٹی ڈیلنگ کے میدان میں ملازمتیں فراہم کرنے کے علاوہ کروڑ ڈالرسالانہ زرمبادلہ بھی بھیجتے ہیں. جو سارے کا سارا پاکستانی نوکرشاہی اورسرمایہ کارہڑپ کرجاتے ہیں بغیرکوئی ڈکارمارے۔ لیکن جب سال بعد ڈھائی ارب روپیہ آزاد کشمیر کی حکومت کودیا جاتا ہے تو اخباروں میں سرخیاں لگتی ہیں اورٹی وی پربھی اس کی خبریں نشرکی جاتی ہیں یوں عام کشمیری سے لے کر بڑے بڑے پھنےخان دانشور یہ سمجھتے ہیں کے آزاد کشمیر پاکستان پربہت بڑا بوجھ ہے۔

لیکن ظاہرہے کہ ان میں سے اکثر یا تو کشمیر سے پاکستان کو ہونے والی آمدنی سے بے خبرہوتے ہیں یا پھردوسروں کو بے خبراورکنفیوز کرنا چاہتے ہیں جنگلات، منگلا ڈیم کا پانی وبجلی، دریا، پی آئی اے کی کشمیریوں سے سلانہ آمدنی اس کے علاوہ ہے۔ یوالحاق پاکستان کی قوتوں معیشت کے میدان میں بھی کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی بنیادیں خوب مضبوط کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی اورحق نمک خوب ادا کیا۔ اس احساس کو عام آدمی کے ذہن میں پختہ کرنے کے لیے کہ کشمیر پاکستان کے ساتھ الحاق کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا آزاد کشمیر کے اندربرسراقتدار”بااثراورمعتبر” شخصیات کی طرف سے اس طرح سے اخباری بیان بھی اہم کرداراداکرتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ "ہم تو پاکستان کی سرپرستی کے بغیرایک کپ چائے بھی نہیں بناسکتے ”

@zeeshanwaheed43