fbpx

آزاد کشمیر اور الیکشن تحریر: فائزہ خان

آزاد کشمیر کے کل کے الیکشن نے یہ ثابت کر دیا کہ بظاہر میک اپ شدہ ڈمی کو لوگ دیکھنے تو آ سکتے ہیں مگر وہ ووٹ اسی کو دیں گے جن کی زبانوں سے سکیورٹی ادارے محفوظ ہیں۔ جن کے وعدوں پر انہیں یقین ہے۔ جن کی بیانیہ مضبوط ہیں
کشمیری جو اپنے فوجی جوانوں پر جان دیتے ہیں انہوں نے نون لیگ کا بنیادی بیانیہ ہی مسترد کر دیا۔ اداروں کے خلاف زبان چلانے سے الیکشن نہیں جیتے جا سکتے ہیں اسی بیانیہ کی وجہ سے نون لیگ کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
کشمیریوں نے بدلے کی سیاست کو بھی مسترد کر دیا
علی امین گنڈا پور کے صرف اتنا کہنا کہ مریم نے سرکاری خرچہ سے پلاسٹک سرجری کرائی انہیں کشمیر سے دیس نکالا دے دیا گیا کیونکہ کشمیر میں نون لیگ کی حکومت تھی تو سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور بدلے کی سیاست کا کھیل کھیلا گیا مگر کیا فائدہ ہوا کشمیریوں نے ان کا یہ کھیل بھی مسترد کر دیا
جبکہ بلاول کو این الیکشن کی کمپین کے دوران امریکہ جانا زیادہ ضروری لگا صرف امریکہ کو یہ باور کرانے کے لئے کہ ہم عمران خان کے بیانیہ کو سپورٹ نہیں کرتے ہمیں استعمال کرو ہم بکنے کے لیے تیار ہیں۔ انہیں ایک ایسے وقت میں امریکہ جانا بھی مہنگا پڑا۔ اور آصفہ بھٹو نے پیچھے سے دو ناکام جلسیاں کرکے ان کے الیکشن میں جیتنے کی ہر امید پر پانی پھیر دیا مریم اور بلاول نے اپنی پارٹیوں کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی کشمیر میں الیکشن صرف پی ٹی آئی کی وجہ سے نہیں جیتا گیا بلکہ مریم اور بلاول کی پچگانہ حرکتوں نے بھی پی ٹی آئی کو ہی سپورٹ دی اور جیتنے میں مدد فراہم کی
اس بار آزاد کشمیر میں الیکشن کے دوران بہت گہما گہمی نظر آئی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ الیکشن پاکستان کے سیاسی جماعتوں کے لیے بہت اہمیت کے حامل تھے اسی سلسلے میں بہت سے بیانات بہت سخت بھی دے دیے گئے تھے تینوں بڑی پارٹیوں نے ان انتخابات میں گہری دلچسپی بھی لی اور آخری وقت تک اپنے آپ کو ہی فاتح قرار دیتے رہے مگر نتائج وہی برآمد ہوئے جو عمران خان کے جلسے میں آنے والی عوام سے ظاہر تھے دیکھا جائے تو مریم کے جلسے میں بھی عوام کم نہ تھے مگر نتائج نے ثابت کیا کہ عوام بس سجی سجآئی ڈمی کو دیکھنے آتے تھے ورنہ وہ عمران خان کے بیانیہ کے ساتھ ہی کھڑے تھے اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوام کی رائے پاکستان کے دیگر علاقوں سے خاص مماثلت رکھتی ہے
اس سے پہلے کی حکمران جماعتیں کشمیر کے عوام کو الگ حیثیت دینے کو تیار نہ تھے مگر عمران خان نے یہ کہہ کر کہ ایک ریفرنڈم کرایا جائے گا کہ کشمیر کے عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا اپنی علیحدہ حیثیت رکھنا چاہتے ہیں کشمیریوں کا دل جیت لیا اب دعا یہ ہے کہ عمران کشمیر کی عوام کی امنگوں اور خواہشات پر پورا اترے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ پالیسی ساز کس طرح ان کے اس مشن کو مکمل کرنے میں مدد دیتے ہیں

@_Faizakhann