fbpx

آزادی بڑی نعمت ہے۔ ( مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ) — حافظ گلزارعالم

جامعہ دارالعلوم کراچی ، کورنگی کراچی میں واقع ایک عظیم دینی ادارہ ہے۔ جہاں قرآن و حدیث اور اس سے متعلقہ علوم کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اسکے بانی مفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔

جو تحریک پاکستان کے عظیم رہنما تھے۔ پاکستان بننے کے بعد آپ نے مفتی شبیر احمد عثمانی صاحب کی ایماء پر پاکستان ہجرت کی۔

اور یہاں آکر ملک وقوم کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ جامعہ کے حالیہ صدر استاذ محترم مفتی رفیع عثمانی صاحب اور نائب صدر استاذ محترم مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم ہیں

مادر علمی جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہر سال جشن آزادی کے موقع پر پر وقار تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ جس سے وطن عزیر پاکستان کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ایسی ہی ایک تقریب کا حال اس تحریر میں پیش خدمت ہے:

آج 14 اگست ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی مادر علمی جامعہ دارالعلوم کراچی کو سبز ہلالی پرچموں سے خوب سجایا گیا۔ جشن آزادی کی تقریب کا وقت 10 بجے طے تھا۔ جامعہ کی وسیع وعریض مسجد کے باب یاسین کے ساتھ بنے اسٹیج پر جامعہ کے اساتذہ کرام کے لئے نشستیں رکھی گئ۔ اور جامعہ کے طلباء اور شرکاء کیلئے اسٹیج کے سامنے دراسات دینیہ اور دارالقرآن کے وسط میں ہرے بھرے لان میں بیٹھنے کا انتظام کیا گیاہے۔

تقریب کے شروع ہونے سے قبل ہی طلبہ اور دور دراز سے آنے والے شرکاء جمع ہونا شروع ہوئے، اور یوں دس بجے تک تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا گیا۔ تلاوت کے بعد حمد اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھی گئ۔ پھر وطن عزیز سے محبت کے اظہار میں قومی و ملی نغمے پڑھے گئے۔ جن سے حاضرین کے جوش و جزبے میں خوب اضافہ ہوا۔

جامعہ کے طلبہ کی طرف سے مختلف مظاہرے پیش کئے گئے، فوجی پریڈ بھی کی گئ۔ اور پھر جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ کرام نے طلبہ عزیز اور شرکاء سے آزادی کی قدرو قیمت اور ملک و قوم سے محبت پر خطابات کئے۔ سب سے آخری خطاب جامعہ کے نائب صدر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کا ہوا۔ جس میں آپ نے آزادی کی قدر وقیمت پر وقیع خطاب فرمایا۔

آپ کے خطاب کے اہم نکات پیش خدمت ہیں:

۔ ہم پاکستان کی صورت میں اللہ کے اس عظیم تحفہ پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔

۔ تمام غیر اسلامی طاقتیں اس بات کے لئے کوشاں تھیں کہ یہ ملک وجود میں نہ آئے ۔ اللہ نے مسلمانان برصغیر کی مدد فرمائ۔ اور کوہ ہمالیہ کے دامن میں پھیلا یہ وسیع وعریض اور سرسبزوشاداب ملک عطا فرمایا۔

۔ ملک پاکستان دنیا کہ نقشے پر پہلی بار اسلام کے نام پر بننے والی ریاست ہے۔

۔ یوں تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وطن سے وفاداری ہر انسان کے لئے ضروری ہے۔ مگر یہ وطن اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس سے وفاداری نہ صرف اس کا حق ہے۔بلکہ یہ دینی فریضہ بھی ہے۔

۔ یہ اعزاز صرف پاکستان کو حاصل ہے کہ اس کے دستور میں یہ بات لکھی ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہوگی، اور اس دستور کا ہر قانون قرآن سنت کے مطابق ہوگا۔

۔تحریر و تقریر کی آزادی پاکستان کے علاوہ کسی ملک میں نہیں۔ لہذا اس نعمت کو نعمت سمجھو۔

۔ مایوسی پھیلانے کے بجائے امید کے چراغ روشن کرو۔

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے

لہذا ہر شخص جذبہ،ہمت ، خلوص اور حب الوطنی سے سرشار ہوکر ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔

۔ ہر گز یہ نہ سوچیں کہ ایک فرد یا ایک ادارہ معاشرہ میں کیا تبدیلی لا سکتا ہے۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے۔

۔ اللہ اس ملک کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے ۔ اور ہمیں اس کی ترقی میں حصہ ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

خطاب کے بعد ملک عزیز کی بقا، سلامتی اور تعمیر و ترقی کے لئے دعا کرائ گئ،پرچم کشائ کی گئ اور یوں اس پروقار تقریب کا اختتام ہوا .۔