آزادی مارچ، کارکنان کو پنڈال پہنچنے کا حکم، مولانا کریں گے اہم اعلان

0
35

آزادی مارچ، کارکنان کو پنڈال پہنچنے کا حکم، مولانا کریں گے اہم اعلان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آزادی مارچ کے کارکنان کو پنڈال میں پہنچنے کا کہہ دیا گیا ہے، مولانا فضل الرحمان پارٹی اجلاس کے بعد آزادی مارچ کے سٹیج پر جائیں گے،مولانا فضل الرحمان پلان بی کا اعلان کریں گے آزادی مارچ کے پلان بی کے تحت ملک کے مختلف شہروں کو بند کیا جائے گا۔جمعیت علمائے اسلام ف کے سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے تمام کارکنوں سے فوری طور پر آزادی مارچ کے پنڈال میں پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان بہت اہم اعلان کریں گے، کارکنان تمام کام چھوڑ کر پنڈال میں پہنچ جائیں,

ذرائع کے مطابق کچھ دیر میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان متوقع ہے،کارکنوں کو اپنے صوبوں میں احتجاج میں شریک ہونے کا کہا جائے گا ،جے یو آئی کے صوبائی امیروں کو کل مولانا فضل الرحمان نے ان کے علاقوں میں بھجوا دیا تھا

 

مولانا فضل الرحمان کے پلان "بی” کے مقابلے میں حکومت کا بھی "پلان بی” تیار ہو گیا ہے،ملک کی اہم شاہراہوں کی حفاظت کے لیے رینجرز تعینات کر دی گئی،اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد پل کی حفاظت۔ کے لیے بھی رینجرز اہلکار پہنچ گئے. کوئٹہ چمن شاہراہ کی بندش کے باعث پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو سپلائی بھی معطل ہے جبکہ سینکڑوں مسافر گاڑیاں پھنس گئی اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

آزادی مارچ کا آج 14 واں روز ہے اور شرکاء اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں موجود ہیں۔ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان سے فوری مستعفی ہونے اور نئے انتخابات سمیت دیگر مطالبات کر رکھے ہیں تاہم حکومت اور اپوزیشن میں وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

ہجوم آگے بڑھا توتمہارے کنٹینرزکوماچس کی ڈبیا کیطرح اٹھا کرپھینک دیگا،مولانا کی دھمکی

حکومت اور آزادی مارچ کے درمیان مذاکرات کے بعد جو معاہدہ طے پایا ہے اس کے مطابق آزادی مارچ کے شرکا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مختص کردہ مقام تک ہی محدود رہیں گے۔

آزادی مارچ کا ایک فرد دن میں کتنی روٹیاں کھاتا ہے؟ حیران کن خبر،دل تھام کر پڑھئے

مولانا فضل الرحمان کو 14 روز اسلام آباد میں ہو گئے،الیکشن کمیشن آف پاکستان مولانا کو دھاندلی کے الزامات پر جواب دے چکا ہے، پاک فوج کے ترجمان بھی آزادی مارچ پر اپنا موقف سامنے لا چکے ہیں، حکومت کی طرف سے بھی درمیانی راستہ کی تلاش ہے اور اب حکومت سے زیادہ مولانا کو درمیانی راستہ کی تلاش ہے، بلاول اور ن لیگ نے مولانا کو بند گلی میں پھنسا دیا، اگر استعفیٰ کا مطالبہ سامنے رکھ کر مولانا چار برس بھی بیٹھے رہیں تو وہ عمران خان انہیں دینے کو تیار نہیں.

Leave a reply