fbpx

آزادی مارچ، مولانا کو لینے کے دینے پڑ گئے، اپوزیشن جماعتیں بھی پریشان

آزادی مارچ، مولانا کو لینے کے دینے پڑ گئے، اپوزیشن جماعتیں بھی پریشان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان مشکل میں پھنس گئے، آزادی مارچ میں نوجوان کے جاں بحق ہونے پر والد عدالت پہنچ گیا، اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کر دی.

آزادی مارچ کے دوران کنٹینر سے ٹکرا کر جاں بحق ہونے والے نوجوان کے والد نے اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کو فریق بناتے ہوئے مقدمے کے اندراج کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔

درخواست گزارنے عدالت میں‌ دی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ کہ 6 نومبر کو نائنتھ ایوینیو پر میرا بیٹا رات کو اسٹریٹ لائٹس بند ہونے اور آزادی مارچ کے کنٹینر سے ٹکرانے کی وجہ سے جاں بحق ہوا ہے۔

آپ صحافی رہیں، قصائی نہ بنیں، شیخ رشید نے ایسا کیوں کہا؟

اکرم درانی کے خلاف نیب نے بڑا قدم اٹھا لیا، مولانا سمیت سب پریشان

حافظ حمداللہ پاکستانی شہری ہیں یا نہیں؟ نادرا نے ایسا جواب جمع کروایا کہ مولانا حیران

گالیاں بھی دیں اور مذاکرات بھی کریں، ایسا نہیں چلے گا، اکرم درانی

اکرم درانی مشکل میں، نیب نے گرفتاریاں شروع کر دیں

عثمان کے والد نے اپنی درخواست میں کہا کہ میرے بیٹے کی موت کی ذمہ داری آزادی مارچ انتظامیہ اور اسلام آباد انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ایس ایچ او تھانہ کراچی کمپنی کو اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔ درخواست میں اکرم درانی، میر حاصل بزنجو، عثمان کاکڑ اور ڈی سی حمزہ شفقات کو بھی فریق بنایا گیا ہے.

واضح رہے کہ نواجوان کی کرنٹ سے ہلاکت کے بعد جے یو آئی کے کسی رہنما نے اس گھر کا تعزیت کے لئے دورہ نہیں کیا اور نہ ہی لواحقین سے رابطہ کر کے کوئی تسلی دی، اپوزیشن جماعتوں کا کوئی رہنما اس نوجوان کے گھر نہ گیا

مولانا کا پلان اے فلاپ ہوا، بی بھی فلاپ ہو گا،ایسا کس نے کہا؟ 

آزادی مارچ کا ایک فرد دن میں کتنی روٹیاں کھاتا ہے؟ حیران کن خبر،دل تھام کر پڑھئے

کتنا بزدل کھلاڑی ہے، اپنے اوپر آتی ہے تو راہ فرار اختیار کرتا ہے،مولانا فضل الرحمان

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان کراچی سے اسلام آباد تک آزادی مارچ لے کر گئے تھے اور 13 روز تک اسلام آباد میں بیٹھے رہے تا ہم حکومت نے مولانا کا کوئی مطالبہ نہیں مانا جس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پلان بی بتایا اور سڑکوں‌پر چلے گئے اس کے بعد پلان سی آیا اور اسکے بعد اے پی سی، اب رہبر کمیٹی مزید فیصلہ کرے گی کہ کیا لائحہ عمل طے کرنا ہے. اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کے بعد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ آ گئے اور چلے گئے ایس نہیں، پاکستان کی عوام، تمام جماعتوں کے نمائندے آئے اسی کے نتیجے میں حکومت جائے گی،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.