fbpx

آزادی رائے کی دعویدار بی بی سی نے یہودیوں کے دباؤ پر فلسطینی مواد ہٹادیا

باغی ٹی وی : آزادی رائے کی دعویدار بی بی سی نے اسرئیلی دباؤ پر فلسطینی مواد ہٹادیا

اسرائیل کی حامی لابیسٹ تنظیم ، یوکے لائرز فار اسرائیل (یوکے ایل ایف آئی) کے دباؤ کے بعد بی بی سی نے فلسطین ، جاری اسرائیلی قبضے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی ابتدا کے بارے میں سلسلہ وار تعلیمی ویڈیوز کو ہٹا دیا ہے۔

ان ویڈیوز میں جی سی ایس ای بائٹائز سیریز کے 7 حصوں کا ایک حصہ تشکیل دیا گیا تھا ، اور اس کا مقصد اسکول کے بچوں کو فلسطین میں کئی دہائیوں سے جاری اسرائیلی نوآبادیاتی نظام کے بارے میں حقائق بتانا تھا ،اور ان اسرائیلی اقدام کی وجہ سے حقوق انسانی کی تنطیموں نے اس عمل کو غیر یہودیوں کی نسل کشی قرار دیا تھا

مارچ میں یوکے ایل ایف آئی نے بی بی سی کو شکایت کا ایک خط بھیجا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ ویڈیوز "غیر متوازن اور متعصب پر مبنی ہیں اور براڈکاسٹر پر "اسکولوں میں غیر قانونی طرز عمل کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

بی بی سی کا دعویٰ ہے کہ اس نے جائزہ لینے کے لئے ویڈیوز کو پھر سے زیر غور کیا ہے ۔ بی بی سی ایجوکیشن کے سربراہ ہیلن فولکس کا کہنا ہے کہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ بی بی سی کے حالیہ ایڈیٹوریل رہنما اصولوں کے مطابق ہے۔

فولوکس نے وضاحت کی کہ اس سلسلے کو سائٹ سے معطل کردیا جائے گا جب کہ ادارتی جائزہ لیا جائے گا اور یہ جائزہ مکمل ہونے کے بعد بی بی سی فیصلہ کرے گی کہ کون سا مواد مستقل طور پر ریٹائر ہوگا اور کون سا بحال یا ترمیم کرنا ہے۔

اس فیصلے کے بعد ، یوکے ایل ایف آئی کے چیف ایگزیکٹو جوناتھن ٹرنر نے کہا ہم نے بی بی سی سے کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں اور اس متنازعہ موضوع کی متوازن پریزنٹیشن کو فروغ دینے کے لئے مناسب طریقے سے اس کا تدارک کریں اور ہم امید کرتے ہیں کہ بی بی سی اب ایسا کررہی ہے۔

جب بی بی سی سے پوچھا گیا کہ اس نے اسرائیل کی بدنام زمانہ لابی کی درخواست پر مواد اتارنے سے پہلے مورخین ، اور ماہرین تعلیم سے رجوع کیا تھا کہ آیا یہ مواد تعصب پر مبنی ہے اور غیر تاریخی اور حقیقی ہے تو اس اہم سوال کا جواب براڈکاسٹر کی طرف سے کوئی نہیں ملا سکا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.