سائفر کیس،اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر بیان دیا تھا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر

سائفر کی 9کاپیوں میں سے ایک کاپی وزیراعظم ہاؤس سے واپس نہیں آئی
0
200
imran khan shah mehmod qureshi

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی،

عمران خان کے وکلا بیرسٹر سلمان صفدر، عثمان ریاض گل ،ایف آئی اے سپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ اور ذوالفقار عباس نقوی عدالت پیش ہوئے، عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان، پی ٹی آئی رہنما عامر مغل اور دیگر بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھے،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت بھی عدالت پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کی۔

سلمان صفدر نے کہاکہ تجسس ہے حامد علی شاہ کب اپنے دلائل مکمل کریں گے،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ دلائل کیلئے ایک دن لگے گا، پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ بیرسٹر سلمان صفدر نے خود 14 روز وقت لیا ہے،بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ حکومت جتنا وقت لے رہی ہے اتنا کیس کو سنبھالنا پڑ رہاہے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے عمران خان کا 342 کا بیان پڑھتے ہوئے کہاکہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان سے پوچھا کہ آپ کیخلاف کیس کیوں بنا، عمران خان نے اس سوال کا جواب دیا،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کا دفاع کا بیان وکیل کی عدم موجودگی میں ہوا؟کیا وکیل کی عدم موجودگی میں 342کے بیان کے کوئی اثرات ہوتے ہیں؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اس نکتے پر تیاری کرکے آئیں اور عدالت کی معاونت کریں، کیا وکیل کی عدم موجودگی میں ملزم کے دفاع کے بیان کی اہمیت کم ہو جائے گی؟

ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعظم خان نے مقدس کتاب ہاتھ میں رکھ کر عدالت میں بیان دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا وہ مقدس کتاب قرآن پاک ہی تھی؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ قرآن پاک ہاتھ میں رکھ کر دیئے گئے بیان کو ہلکا نہیں لیا جاسکتا،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ‏آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں دستاویز گم جانے کی جو سزا ہے وہ کس دستاویز کی بات ہے یا کچھ نہیں لکھا ہوا ، ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ دستاویز گم ہونے کو قابل احتساب ہونے کے ساتھ پڑھا جائے گا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ‏کیا قابل احتساب دستاویز کو ہم کوڈ کہہ سکتے ہیں؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ تسلیم شدہ ہے عمران خان کے پاس سائفر تھا،دستاویزات کی چار اقسام ہیں،دستاویز گم ہونے کی صورت میں مقدمہ درج ہوگا، عدالت نے کہا کہ ان چاروں اقسام میں سے کوئی بھی دستاویز گم ہو جائے تو کیا جرم ہوگا؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمران خان نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں خود مانا کہ سائفر ان سے گم ہو گیا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ دفاع (342) کے بیان میں جو کہا وہی اصل ہے. انٹرویو میں کیا کہا اہمیت نہیں رکھتا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ تسلیم شدہ ہے عمران خان کے پاس سائفر تھا،دستاویزات کی 4اقسام ہیں،عدالت نےاستفسار کیا کہ چاروں اقسام میں سے کوئی بھی دستاویزگم ہو جائے تو کیا جرم ہوگا؟ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہاکہ دستاویز گم ہونے کی صورت میں مقدمہ درج ہوگا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا بیرون ممالک سے آنیوالی تمام دستاویزات کانفیڈینشل ہوتی ہیں؟کوئی دستاویز قابل احتساب نہیں وہ گم جائے پھر تاخیر ہے؟وزیراعظم آفس میں تو روزانہ ایک ہزار چٹھیاں آتی ہوں گی،دانستہ نہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک آدھ گم بھی ہو جاتی ہوگی، کیا ہم نے سائفر گائیڈ لائنز کا کتابچہ واپس کردیا ہے؟ایف آئی اےپراسیکیوٹر نے کہاکہ جی ہاں، آپ نےواپس کر دیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ یہ نہ ہو پھر ہمارے خلاف بھی ایف آئی آر ہو جائے،جو گائیڈ لائنز ہیں ان کو ہم کیا کہیں گے؟پراسیکیوٹر نے کہاکہ اس کو سکیورٹی آف سائفر گائیڈ لائنز کہتے ہیں جوکابینہ ڈویژن نے تیار کی ہیں،عدالت نے پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ سائفر گائیڈ لائنز کا کتابچہ سلمان صفدر کو دےدیں۔

پراسیکیوٹر نے کہاکہ قانون کہتا ہے سائفر گم یا چوری ہونے پروزارت خارجہ اور آئی بی کو آگاہ کرنا ہوتا ہے،سائفر کی 9کاپیوں میں سے ایک کاپی وزیراعظم ہاؤس سے واپس نہیں آئی،باقی 8 کاپیوں کو ضائع کردیا گیا،ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے وزارت خارجہ رپورٹ عدالت میں پیش کردی،سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلوں پر سماعت 6مئی تک ملتوی کردی گئی

سائفر کیس:اسد مجید اسٹار گواہ ہو سکتے تھے ابھی اسد مجید نے تو کچھ نہیں کہا کہ وہ اسٹار گواہ بن سکتا

پاکستان کے بعد امریکی ایوان میں بھی سائفر بیانیہ کو جھوٹ کا پلندا کہ دیا،شیری رحمان

انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات پر خصوصاً تشویش رہی، ڈونلڈ لو

ڈونلڈ لو کی کانگریس میں طلبی پر امریکی دفتر خارجہ کا ردعمل

سائفر کیس،یہ آخری بات ہو گی کہ میں کہو ں ٹرائل جج کو ایک اور موقع دے دیں،وکیل عمران خان

سائفر کیس،عمران خان کی اپیل پر سماعت ایک روز کے لئے ملتوی

سائفر کیس،یہ کہتے تھے ضمانت کا حق نہیں ، سپریم کورٹ نے ضمانت بھی دی،سلمان صفدر

سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،التوا کی درخواست مسترد

سائفر کیس،عمران خان کی سزا کیخلاف اپیل قابل سماعت ہی نہیں، پراسیکیوٹر

پی ٹی آئی کا خط، سائفر کے بعد ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے،شہباز شریف

Leave a reply