صحافی اپنی نجی زندگی ودیگر کاموں کو قربان کرکے عوام تک اصل حقائق پہنچاتے ہیں،صحافیوں کی باغی ٹی وی سے گفتگو

ہمارے پاس خبر عوام کی امانت ہے اس کو عوام تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے،عمر آصف ،سلطان شاہ،عثمان ملک کی باغی ٹی وی سے گفتگو

راولپننڈی:عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر سینئر صحافی سلطان شاہ نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا قلم نا کبھی بکے گا نا کبھی جھکے گا حقائق اور سچ ہر حال میں عوام تک پہنچاتے رہیں گے اور اس کے لئے ہمیں کسی قسم کی بھی قربانی دینی پڑی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے،اس وقت کثیر تعداد میں صحافی اپنے قلم کی پاسداری کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرچکے ہیں جن میں اکثر دہشتگردی کا شکار ہوئے اور اکثر کو سچ کی پاداش میں سزا دی گئی .ماضی کی حکومت کی نسبت اس حالیہ حکومت میں صحافی مسائل کا شکار ہیں اکثر اداروں میں صحافی بیروزگاری کا شکار ہیں .عثمان ملک رپورٹر 24 نیوز نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافی 24 گھنٹے خبر کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے تو وہ جان کی ہتھیلی پر رکھ کر کام کررہا ہوتا ،پاکستان میں کتنے صحافی ٹارگٹ ہوئے راولپنڈی کی بات کی جائے تو 2 صحافی شہید ہوئے اور اگر ہماری زندگی کی بات کی جائے تو ہمارے گھر والے عزیز شکوہ کرتے ہیں کے ہم ان کو وقت نہیں دیتے کیونکہ ہم نے بارش ہو ،سیلاب ہو،آندھی یا طوفان یا آنسو گیس ہم نے دن رات ایک کرکے عوام تک خبر پہنچانی ہوتی ہے.اس موجودہ حکومت میں صحافیوں کا کام بڑھ گیا ہے لیکن وہیں صحافیوں کو برطرف کیا جارہا ہے جہاں برطرف نہیں کیا جارہا ہے وہاں صحافیوں کی تنخواہوں کو بند کیا جارہا ہے اس وقت صحافی بیروزگارہورہے ہیں.عمر آصف رپورٹر سماء ٹی وی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحافت معتبر پیشہ ہے ہم دن رات عوام تک معاشرے کے حقائق پہنچاتے ہیں کیونکہ خبر ہمارے پاس عوام کی امانت ہے اس کو عوام تک پہنچانا ہمارا حق ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت غیر صحافتی عناصر بہت زیادہ صحافت کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آچکے ہیں اور صحافت کو بدنام کررہے ہیں ،ہم صحافی ہر مشکلات برداشت کرکے عوام تک پہنچاتے ہیں انہوں نے عوام کے نام پیغام دیا کہ عوام حقیقی صحافی اور صحافت کا لبادہ اوڑھنے والوں کو پہچانیں اگر انہیں کو ایسا شخص نظر آتا ہے جس نے صحافت کا لبادہ اوڑھ رکھا اور غیرقانونی کام میں ملوث ہے تو وہ متعلقہ پریس کلب کو ان کی رپورٹ کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.