گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں صدر ثوبان ظہیر بٹ کی زیرصدارت ایک اہم میٹنگ ایکسپورٹس انڈسٹری اور ڈاکٹر خرم شہزادڈپٹی کمشنر گجرات کے درمیان ہوئی

Gujrat

گجرات (چوہدری فیضان ارشاد سے)گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں صدر ثوبان ظہیر بٹ کی زیرصدارت ایک اہم میٹنگ ایکسپورٹس انڈسٹری اور ڈاکٹر خرم شہزادڈپٹی کمشنر گجرات کے درمیان ہوئی جس میں موجودہ صورتحال اور لاک ڈاؤن میں ایکسپورٹس آرڈرز کو مکمل کرنے اور ایکسپورٹس انڈسٹری کھولنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں خرم الطاف بھٹی نائب صدر چیمبر اور دیگرنے شرکت کی۔ صدر چیمبر ثوبان ظہیر بٹ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اس مشکل اور غیر معمولی صورتحال میں بہترین کام کر رہی ہے اور اس کے لئے گجرات میں آئسولیشن سنٹرز اور مشتبہ ایریاز کوقرنطینہ بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ اس کورونا کووڈ 19 وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے لاک ڈاؤن ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ بزنسز اور اس کے سپلائی چین کو بھی مرحلہ وار کھولنے کیلئے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو لائحہ عمل مرتب کرنا پڑے گا کیونکہ ابھی تو انڈسٹری اور ٹریڈرز اپنے ایمپلائز اور لیبر کو تنخواہیں دے رہے ہیں لیکن یہ آگے کرنا انتہائی مشکل ہو گا کیونکہ ہمیں کیش ان ہینڈ کا مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ سب سے اہم ایکسپورٹ سیکٹر ہے اور حکومت نے جو اس سیکٹر کو کام کرنے کی اجازت دی ہے وہ خوش آئند ہے کیونکہ گجرات میں بھی ایکسپورٹرز کے پاس آرڈرز موجود ہیں اور کچھ آرڈرز پراسس میں ہیں لیکن ان ایکسپورٹ یونٹس کو پروڈکشن کیلئے بھی وینڈرز سے مال را میٹریلز کی ضرورت پڑے گی اس لئے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ان کے بارے میں بھی سوچے تاکہ را میٹریلز کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ کل حکومت کے اعلان کے مطابق جو سیکٹرز کھولے گئے ہیں ان میں بھی حکومت چیمبرز آف کامرس سے را ئے لے کر مزید سیکٹرز کو بھی شامل کرے۔ ملک اظہار احمد چیئرمین پیفما نے کہا کہ جن ایکسپورٹرز کو اجازت دی جا رہی ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے وہ لوکل مارکیٹ کے حوالے سے پروڈکشن نہ کریں۔ ہمارے وینڈرز کو بھی ہمیں مال فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس حولاے سے ہم وینڈرز کی ڈٹیلز چیمبر کو فراہم کر دیں گے۔ لیکن ایکسپورٹرز کو پہلے اپنے ایکسپورٹس آرڈرز (TDAP) ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے ویری فائی کرانا ہوں گے۔ ہماری طرف سے چیمبر اور پفما ضلعی انتظامیہ کو اس بات کی یقین دہانی کرواتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ SOP’s پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے گا کیونکہ اگر ہمارا رویہ ذمہ دارانہ ہو گا تو ہم حکومت سے بقیہ انڈسٹری کھولنے کیلئے بھی سفارش کریں گے۔ انہوں نے کہا ایکسپورٹس کے علاوہ آئسولیشن اور قرنطینہ سنٹرز کیلئے بھی ہمیں سندھ اور بلوچستان حکومت کی طرف سے آرڈرز دیئے گئے ہیں وہ بھی ہم مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس کے لئے بھی 20، 30 فیصد لیبر کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ خرم الطاف بھٹی نائب صدر چیمبر نے کہا ہم حکومت کے اس قدام کی حمایت کرتے ہیں کہ وہ ایکسپورٹرز کو فیسیلیٹیٹ کرنا چاہتے ہیں اور گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری بھی ضلعی انتظامیہ کی طرح ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنے ممبرز اور تمام بزنس مینوں کو حکومت کی طرف سے جاری کردہ قواعد و ضوابط شیئر کرنا ہے اور اپنی سطح پر بھی اویرنیس جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس کو کنٹرول کیا جا سکے۔میاں امان اللہ پاک فین اور یاسر احسان پاک فین نے کہا کہ ہماری انڈسٹری SOP’s کو یقینی بنائے گی لیکن چاہتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ہماری معاونت کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مختلف شفٹوں میں اپنے آرڈرز مکمل کروائیں گے۔ محمد منیر پشاوری امین فین نے کہا یہ SOP’s میں سے کچھ ایسے ہیں جن میں کچھ نرمی برتی جائے اور اس بات کی بھی یقین دہانی کرائے جو فیکٹری ان SOP’s پر عملدرآمد کرے گی ضلعی حکومت اس کے خلاف ایکشن نہیں لے گی بلکہ اگر کہیں کمی رہ جائے تو اس میں گائیڈنس فراہم کرے گی۔ ڈاکٹر خرم شہزاد ڈپٹی کمشنر گجرات نے کہا اس وبا میں سارے حالات آپ کے سامنے ہیں اور ان غیر معمولی حالات میں گورنمنٹ کو غیر معمولی فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ جب لاک ڈاؤن کہا گیا تو سب کچھ بند کر دیا گیا لیکن حکومت اب مختلف فیزز میں مختلف انڈسٹریل سیکٹرز اور بزنسز کو اوپن کرنا چاہتی ہے لیکن اس میں چانسز ہوتے ہیں کہ اگر پابندیاں کم کی جائیں گی تو وائرس پھر بھی تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اس لئے ہمیں تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ سب کی سیفٹی کیلئے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ جو کل ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے اس میں تمام تفصیلات بتا دی گئی ہیں۔ کن شعبوں کو لاک ڈاؤن سے مستشنیٰ قرار دیا ہے۔ یہ سب تفصیلات آپ کے ساتھ بھی شیئر کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ SOP’s مرتب کئے ہیں وہ بھی آپ کے ساتھ شیئر کر دیئے گئے ہیں تاکہ آپ سب ایکسپورٹرز اور شعبوں تک پہنچا سکیں۔ انہوں نے کہا سب سے اہم بات ذمہ داری کا احساس ہے کیونکہ ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھے گا اور اس کو بخوبی انجام دے گا تو ہم حالات پر کنٹرول رکھ سکتے ہیں۔ جو SOP’s انڈسٹریز کامرس اینڈ انویسمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے جاری کئے ہیں ان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور ایکسپورٹرز کے جو آرڈرز ہیں وہ IDAP سے ویریفائی ہوں گے۔ اس کے بعد ہم این او سی جاری کر دیں گے۔ الائیڈ فیسی لیٹیز اور وینڈرز کو بھی ریلیکسیشن دی جائے گی تاکہ وہ مینو فیکچرز (ایکسپورٹرز)کو مال فراہم کر سکیں وہ باہم تعاون سے کچھ دیر کیلئے اپنے احاطے اوپن کر سکیں گے۔ اس میں صرف 20 فیصد لیبر کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہو گی۔ انہوں نے کہا حالات اتنی جلدی تبدیل نہیں ہوں گے اور ہمارے لائف سٹائلز میں سوشل ڈسٹینس اور دیگر احتیاطوں کا شامل کرنا اب لازم ہے کیونکہ ابھی تک اس کی کوئی ویکسین نہیں آئی ہے۔ ہم جس قدر ذمہ دار ہو جائیں گے۔ پابندیاں اسی قدر کم لگائی جائیں گی۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ بھی آپ کے ساتھ تعاون کرے گااور اس کے علاوہ انسپکشن کے بعد جرمانے یا فیکٹریز کو seal نہیں کیا جائے گا بلکہ چیمبر آف کامرس کو انفارم کیا جائے گا کہ وہ SOP’s پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ اے ڈی سی جی توقیر الیاس چیمہ نے ایکسپورٹرز کو مختلف SOP’s کی تفصیلات بھی بتائیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.