ورلڈ ہیڈر ایڈ

بابری مسجدکیس سماعت، تمام سوالات مسلم فریق سے

بھارتی سپریم کورٹ میں بابری مسجد کیس کی سماعت آخری مراحل میں ہے۔ مسلم فریق کے وکیل راجیودھون کے دلائل جاری ہیں۔

بابری مسجد کیس ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اہم اعلان کر دیا

بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سامنے آخری مرتبہ پیش ہوئے مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون نے کہا کہ ”دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کیس کی سماعت کے دوران تمام سوال ہم (مسلم فریق) سے ہی پوچھے جاتے ہیں۔ کبھی ہندو فریق سے سوال نہیں کیے جاتے۔“ راجیو دھون کے اس بیان پر جسٹس جے ایس ویدیا ناتھن نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔

راجیو دھون نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی رپورٹ میں مندر کے گرائے جانے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ مسجد کا تالا کھلنے کے بعد بھی ہندووں کا وہاں پر قبضہ نہیں رہابلکہ ان کے پاس صرف پوجا (عبادت) کرنے کا حق تھا۔ جسٹس ایس اے بوبڈے نے کہا ”اگر ان (ہندووں) کے پاس عبادت کا حق تھا تو یہ آپ کی ملکیت کے دعوے کو ختم کرتا ہے“۔اس پر دھون نے جواب دیا کہ میں زمین کا مالک ہوں اور اگر کوئی مجھ سے کہے کہ کیا میں ہاتھ دھو سکتا ہوں اور میں اس کی درخواست مان لیتا ہوں۔ بس یہ معاملہ ایسا ہی ہے۔

بابری مسجد کیس کی 37ویں روز سماعت ، تفصیلات جانئے

راجیو دھون کے مطابق یہ معاملہ قصہ کہانیوں والا نہیں بلکہ یہ معاملہ حقیقی بنیادوں پر ہے۔ آرکیولوجیکل سروے ایک سائنس ہے اور دوسرا فریق قصہ کہانیوں کی بنیاد پر دعوی کر رہے ہیں ۔

بابری مسجد کیس، ہندوﺅں کے پاس صرف چبوترے کا حق

دھون کے بقول بابری مسجد کی زمین پر مستقل ہمارا (مسلم فریق) قبضہ رہا ہے اور 1989 سے پہلے ہندو فریق نے کبھی زمین کے مالکانہ حق کا دعوی بھی نہیں کیا۔ اسی طرح 1986 میں رام چبوترے پر مندر بنانے کے مطالبہ کو فیض آباد کی عدالت خارج کر چکی ہے۔
دھون نے کہا کہ دسمبر 1992 ایک حقیقت ہے جس کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ گنبد کے نیچے رام کی پیدائش ہونے کا دعوی کبھی ثابت نہیں کیا جا سکا۔

یاد رہے کہ ہندوستان میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت 6 دسمبر 1992 کو ہوئی تھی جب انتہا پسند ہندوؤں کے ٹولے نے تمام قانونی، سماجی و اخلاقی اقدار پامال کرتے ہوئے تاریخی بابری مسجد شہید کردی تھی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.