fbpx

زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے نے 28 سال بعد ماں سے زیادتی کرنیوالوں کو پکڑوا دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے نے 28 سال بعد ماں سے زیادتی کرنیوالوں کو پکڑوا دیا

واقعہ بھارت میں پیش آیا، 28 برس بعد ایک خاتون کو انصاف ملا ہے ، خاتون کے ساتھ دو ملزمان نے زبردستی زیادتی کی تھی جس کے نیتجے میں ایک بچہ پیدا ہوا تھا، بچہ پیدا ہونے پر ملزمان نے خاتون کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ اگر کسی کو کچھ بتایا تو اسے اور بچے کو قتل کر دیں گے، خاتون ڈر کے مارے چپ رہی اور بچے کے ساتھ زندگی جینے لگی

اترپردیش کے علاقے شاہجہاں پور کی رہائشی لڑکی جس کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی اس وقت اس کی عمر تقریبا 12 برس تھی اور وہ کمسن بچی تھی، دونوں ملزمان نے کئی بار اسے زیادتی کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے وہ حاملہ ہوئی اور اس نے بچے کو جنم دیا، 1994 میں زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے نے ماں کو انصاف دلوایا ہے اور زیادتی کرنے والے دو ملزمان کو گرفتار کروا دیا ہے

پولیس کے مطابق اس کیس کے بارے میں ہم تذبذب کا شکار تھے کہ 1994 میں ہونے والی زیادتی کے کیس کو کیسے آگے لے کر جائیں تا ہم جب ڈی این اے کروایا گیا تو ملزمان تک ہم پہنچ گئے، ایک ملزم گرفتار کر لیا ہے جبکہ دوسرے کے قریب پہنچ چکے ہیں، پولیس نے رضی عرف گڈو کو گرفتار کیا جس کا ڈی این اے لڑکے کے ساتھ میچ ہوا تھا،ملزم کو حیدر آباد سے گرفتار کیا گیا،ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے،ملزم کا کہنا ہے کہ وہ حیران ہے کہ اب پولیس کو کیسے یاد آ گیا کہ ہم نے کوئی جرم کیا تھا

طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

میں نے کوئی جبر تو نہیں کیا، مفتی عزیزالرحمان اعتراف کے بعد فرار

پولیس کے مطابق لڑکی سے زیادتی کرنے والے دونوں بھائی تھے، 4 مارچ 2021 کو واقعہ کا مقدمہ زیادتی کے بعد جنم لینے والے بچے نے درج کروایا جب اسکو اسکی ماں نے بتایا کہ وہ زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے، لڑکے نے ماں کو انصاف دلوانے کی ٹھانی اور واقعہ کا مقدمہ درج کرویا، شاہجہاں پور کے ایس ایس پی، ایس آنند کا اس کیس کے حوالہ سے کہنا تھا کہ یہ جرم میرے نوٹس میں اس وقت آیا جب 4 مارچ 2021 کو عدالت کے حکم پر ایف آئی آر درج کی گئی۔ ہمارے پاس ملزمان کے مکمل نام نہیں تھے اور ان کے پتے کی بھی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔ یہ کافی پرانا کیس تھا لیکن شکایت حقیقی لگ رہی تھی۔ ہم خاتون کو انصاف دلانے میں مدد کرنا چاہتے تھے کیونکہ اس نے بچپن میں بہت تکلیفیں برداشت کی تھیں۔ ہم ملزم بھائیوں کی شناخت کرنے میں کامیاب ہو گئے اور ایک ملزم گرفتار کر لیا گیا ہے