معاشرے سے بچوں کے جنسی تشدد کے واقعات کے خاتمے کے لئے بچوں سے کھل کر بات کرنا ہو گی ایمان زینب مزاری

ایڈووکیٹ اور لیگل کنسلٹنٹ ایمان زینب مزاری کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ کھل کر وہ باتیں کرنی ہوں گی جو ان کی ذہنی اور جسمانی حفاظت کے لئے ضروری ہے-

باغی ٹی وی : ایڈووکیٹ اور لیگل کنسلٹنٹ ایمان زینب مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں بچوں کے ساتھ ہونے والے جنسی تشدد پر کھل کر بات کی اور کہا کہ ہم کتنے معصوم بچوں کے لئے سوشل میڈیا پر آواز بلند کرینگے. ہمارے ہی معاشرے میں یہ بدکاری ہے. اس کو ختم کرنے کے لئے ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ کھل کر وہ باتیں کرنی ہونگی جو ان کی ذہنی اور جسمانی حفاظت کے لئے ضروری ہے-


ایمان مزاری نے لکھا کہ 2018 میں ہر روز 10 بچوں کو جنسی زیاتی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا یہ غلیظ ذہنیت جو بچوں کو بھی نہیں چھوڑتی کسی کو پھانسی دینے سے یا قانون سازی سے نہیں ختم ہوگی. زینب, زین.. ہم کتنے معصوم بچوں کے لئے سوشل میڈیا پر آواز بلند کرینگے. ہمارے ہی معاشرے میں یہ بدکاری ہے.

انہوں نے لکھا کہ اس غلاظت کو ختم کرنے کے لئے ہمیں یہ چند ضروری اقدامات کرنے ہوں گے-

1. ہمیں اپنے بچوں کے ساتھ کھل کر وہ باتیں کرنی ہونگی جو ان کی ذہنی اور جسمانی حفاظت کے لئے ضروری ہے-

2. ریاست کو فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹریننگ میں تبدیلیاں لانی ہونگی خاص کر وقتی تحقیقات اور حساسیت ے معاملہ مد نظر رکھتے ہوے-

3- بحیثیت ایک شہری ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کو رپورٹ کریں اور اگر ہمارے ارد گرد ایسے کوئی واقعات سامنے ہو تو ہماری مداخلت لازمی ہے-

4. ہمارے سکولوں اور گھروں میں بچوں کو باقاعدہ سمجھایا جائے کہ چاہے کوئی رشتےدار ہو یا کوئی اجنبی اگر وہ کسی بھی صورت حال میں مضطرب ہو تو اس کا اظہار کرے کسی با اعتماد شخص سے یعنی اپنی والدہ, والد یا اگر بچے کو گھر کے اندر ہی ایسے مسائل ہو تو حکومتی ہیلپ لائن سے رابطہ کریں.

ایمان زینب مزاری کی ان ٹوئٹس پر رد عمل دیتے ہوئے صارفین نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا –


ایک صارف نے کہا کہ جب کوئی ایسا واقع ہو جائے تو تم لوگ دکھاوے کے لیے سوشل میڈیا پر چیختے ہو۔ لیکن اس کے مستقل حل کی طرف جاتے ہی نہیں۔ اس کا واحد حل سرعام پھانسی ہے۔ جس سے سب سے زیادہ تکلیف بھی تم جیسے غلیظ لبرلز کو ہی ہوتی ہےاس لیے اپنا رنڈی رونا بند کرو۔


ایک صارف نے کہا کہ مجرم کوخوف کاشکار کیےبغیر یہ سب نہیں رکے گا بچوں سے بات کرنا مسئلے کاحل نہیں کیونکہ بچوں کی صورتحال اسیس کرنے کی صلاحیت کم ھوتی ھے دوسرا مجرم ایسے کیسز میں بچوں کی جان لینے تک اسی لیے جاتے ھیں کہ انہیں پہچانےجانےکا ڈر ھوتاھے لہٰذہ بچے کا، صورتحال کو جج کرلینا بھی خطرناک ھوسکتاھے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.