fbpx

بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار.تحریر : ریحانہ جدون

بچوں کی تربیت بڑا کٹھن کام ہے کیونکہ آج کے اس دور میں بچے کی تربیت کے ساتھ ساتھ آپکو اپنی تربیت بھی کرنا پڑے گی, آ پکو اپنی عادات بھی درست کرنا پڑیں گی کیونکہ بچہ آ پ سے ہی سیکھتا ہے, آ پ ہی کی نقل کرتا ہے, ہر بات میں ویسا ہی ردعمل ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے جیسا آ پ کرتے ہیں جیسا دیکھے گا ویسا کریگا اور جیسا سنے گا ویسا بولے گا. اپنا بچہ کس کو پیارا نہیں ہوتا… یہ ہمارے پیار کی شدت کا ہی ایک پہلو ہے کہ ہم اسکی ضرورت سے زیادہ دیکھ بھال اور نگرانی کرتے ہیں اور فکر رہتی ہے کہ اسکو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسکا بچہ ذہنی و جذباتی لحاظ سے بھی صحت مند ہو, اُسکا کردار اُسکی عادات اچھی ہوں اور بڑا ہوکر ایک مہذب اور کامیاب انسان بنے.

ہماری اسی شدت آرزو کی وجہ سے ہم بچے کو متوازن بنانے کی کوشش میں خود متوازن نہیں رہتے اور کئی دفعہ ہم منفی رویہ اختیار کرجاتے ہیں, جیسا کہ عموماً ہم کرتے ہیں,, یہ نہ کرو, وہ نہ کرو, تم کوئی کام نہیں کرتے, یہ کیوں کِیا, یہ کیا کردیا, وغیرہ وغیرہ

اب زرا غور کریں تو اس میں صرف دو جُز نظر آئیں گے ایک نفی اور دوسرا حکم کا…
اور یہ دونوں اجزاء تعمیر کے نہیں بلکہ تخریب کے ہیں اور تربیت کے لئے سخت مضر.

بیشک آپکا مقصد نیک ہے اور آپ اپنے بچے کو اچھا انسان بنانا چاہتے ہیں مگر یہ طریقہ درست نہیں کیونکہ اگر آ پ تعمیر چاہتے ہیں تو آپکا انداز بھی تعمیری ہونا چاہیے .بچہ ایک مستقل شخصیت رکھتا ہے اور اسکی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہوگی. بچے کو مناسب آزادی دیں کہ وہ اپنی اصلی شخصیت ظاہر کرسکے. آپکی ڈانٹ ڈپٹ آپکا منفی رویہ بچے کی شخصیت کو دبا دے گا. کوشش کریں کہ اپنی شخصیت بچے پر مسلط نہ کریں.

بات چیت اور رویے میں غصے, اکتاہٹ اور کھردرے پن کا ثبوت نہ دیں. اگر بچے کے کسی کام یا بات سے آپکو غصہ آ رہا ہوتو کوشش کریں اُس وقت بچے سے بات نہ کریں, اپنے غصے پر قابو پانے کے بعد بات کریں, صبر و ضبط کا ثبوت نہ دیں گے تو بچوں میں تحمل کہاں سے آئے گا؟اُن کو پیار سے سمجھائیں اور آپکا لہجہ ایسا ہونا چاہیے کہ بچہ اسکو غور سے سُنے اور سمجھے. جہاں تک ممکن ہو انکے کھیل کود میں دخل نہ دیں کیونکہ بچوں کا کھیل بھی انکے کام کا حصہ ہوتا ہے اور کھیل سے وہ کام کرنا سیکھتے بھی ہیں. بچوں کے ساتھ دوستانہ رہنمائی کا انداز اختیار کریں, منفی کی بجائے مثبت رویہ اپنائیں. اسطرح ایک مثبت ذہن تیار ہوگا.

کئی والدین بچوں کے ساتھ سخت رویہ اپناتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب بچہ کوئی غلطی کردیتا ہے تو والدین کے خوف سے والدین سے بات چھپانے لگتا ہے, بچے کے ساتھ آپکا دوستانہ رویہ ہوگا تو بچہ ہر بات آ پ سے شیئر کریگا. بچہ جب اسکول یا مدرسے سے واپس آ ئے تو دوستانہ رویے سے پوچھیں آج میرےبچے نے کیا کیا پڑھا آج کیا کیا کِیا… اور دیکھنا وہ شوق سے آپکو بتائے گا ہم نے آج یہ پڑھا, آج یہ کھیل کھیلا وغیرہ

کہنا یہ ہے کہ بچے کی اپنی شخصیت کو ابھرنے کا موقع دیں. آپ اپنی شخصیت کو زبردستی اس پر نہ مسلط کریں. بچے کو کسی جائز کام اور ضروری بات سے محض اس لئے نہ روکیں کہ وہ آپکے مزاج کے خلاف ہے یا آپ کے مشاغل میں فرق آتا ہے. دیکھیں ایک حیوان بھی اپنے بچوں کو بھوکا نہیں چھوڑتا کسی نہ کسی طرح انکا پیٹ بھر دیتا ہے, مگر صرف انسان ہی ہے جو اپنی اولاد کو اگر کچھ قیمتی دے سکتا ہے ہے تو وہ ہے بہترین تربیت… آ پکی یہی بہترین تربیت انسان کی بہترین خدمت بھی ہے اس طرح آپکا بچہ ایک بہترین اور مہذب انسان بنے گا انشاءاللہ