بدلتے رخ ہواؤں کے ،تحریک آزادی کشمیر کس مقام پر ہے تحریر:محمد نعیم شہزاد

بدلتے رخ ہواؤں کے
(تحریک آزادی کشمیر کس مقام پر ہے)

محمد نعیم شہزاد

اقتدار اور حاکمیت ہر کسی کی مرغوب اور من پسند شے ہے۔ زمانہ بدلتا رہتا ہے اور اس کی روش ہمیشہ ایک طرح پر نہیں رہتی۔ ایک وقت تھا کہ جب طاقتور قومیں کمزور قوموں پر تلوار کے زور پر قابض ہو جایا کرتی تھیں اور اپنی ریاست اور سلطنت کو طویل و عریض کرتی چلی جاتی تھیں۔ طاقت کے اس زور اور نشے نے دھرتی کو خون سے رنگین کر دیا اور انسانی استخوان ٹھوکروں کی نظر ہوئے۔ انسان انسانیت کو بھول بیٹھا اور ہوس اقتدار اس کو اپنے سحر میں لے کر جنونی بنا چکی تھی۔ تہذیبوں کی تبدیلی اور گردشِ زمانہ نے اس روش کو تھوڑا تبدیل کیا اور مہذب دنیا اپنی اپنی جغرافیائی حدود میں سمٹ گئی مگر اب طاقت کے ساتھ مکر و فریب اور دجالیت عام ہوئی۔ دوسروں کو حقوق دینے کے نام پر ان کی حق تلفی کی گئی اور باسہولت زندگی کے نام پر زندگی سے محروم کر دیا جانے لگا۔ امن عامہ کی خاطر بد امنی کو اختیار کیا گیا اور اپنی مرضی کے فیصلے نافذ کیے گئے۔ اپنے اوپر ہونے والے مظالم پر واویلا کرنے کو جارحیت اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جانے لگا۔ امن و امان کے عالمی ادارے قیام میں آ گئے مگر امن ناپید رہا۔ حتی کہ مظلوم کی حمایت میں بلند ہونے والی آوازوں کو بھی بند کر دیا گیا۔ مظلوم کی امداد کا مطالبہ کرنے والی ریاست کو پابندیوں اور عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں زمانہ ایک بار پھر کسی نئے لائحہ عمل کا متقاضی تھا۔

اس موقع پر سابقہ روش پر قائم رہنا کیونکر کارگر ہوتا جبکہ مشاہدہ ہے کہ گزشتہ پون صدی سے اس طرز عمل نے مظلوم کو ظلم سے نجات نہ دلائی۔ مگر ہر نئی چیز ذہن فوراً قبول نہیں کرتا۔ چنانچہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں بھی بڑے بڑے مفکر اور قومیت کے حامی تحریک پاکستان کے مخالف بن گئے اور بعض تو آج بھی پاکستان کے قیام سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ اس موقع پر عالمگیر اصول "آپ ہر کسی کو خوش نہیں کر سکتے” اطمینان قلب کا باعث بنتا ہے۔ اور روح کو تسکین ملتی ہے اور اپنے عمل پر حقیقی خوشی نصیب ہوتی ہے۔

بھارت کی طرف سے نئی قانونی ترامیم کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو ایک برس مکمل ہونے کو ہے۔ اس لاک ڈاؤن اور ترمیم کے جہاں اور بہت سے اثرات سامنے آئے وہیں حکومت پاکستان نے پر امن احتجاج کی روش اپنائی جس پر بہت سے لوگ معترض ہوئے۔ ان لوگوں سے فقط اتنا عرض ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے مگر ایک ذمہ دار ریاست بھی ہے۔ اس قدر جارحیت پسندانہ اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ خیال کیے جاتے ہیں َاور اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوں گے۔ ہر فیصلہ وقت کی نزاکت کو دیکھ کر کرنا چاہیے اور اپنے اداروں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے قدم مضبوط کرنے کی ضرورت ہے نا کہ بلا وجہ اختلاف کر کے جگ ہنسائی اور رسوائی کا باعث بننا چاہیے۔ ان سب گزارشات کا محرک آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ نیا نغمہ "جا چھوڑ دے میری وادی” اور اس پر آنے والے اعتراضات ہیں۔ پاک فوج ایک با اعتماد، ذمہ دار اور باوقار پروفیشنل ادارہ ہے۔ یقیناً ادارے کی پالیسیاں اور عمل ہماری کج فہم سوچ سے کئی گنا اچھا اور متوازن ہے۔ آج کے دور میں میڈیا ایک بڑے ہتھیار کی شکل اختیار کر چکا ہے اور دشمن کو زچ کرنے اور اپنی برتری ظاہر کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ ہمسایہ ملک کی "بالا کوٹ سٹرائک” کی بات ہو یا "گھس کر مارنے” کا دعویٰ ہر طرف میڈیا کارفرما نظر آتا ہے۔ تو ایسے ایک وقت پر جب بھارت کا مکروہ چہرہ ساری دنیا پر عیاں ہو چکا اور اقوام متحدہ سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے ہمارے ادارے کی طرف سے بھارتی جارحیت پر ایک نغمہ جاری کرنا کس طرح قابل اعتراض ہے ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھارتی سرگرمیوں پر اعتراض اگر ہماری پالیسیوں کے درست ہونے کا ثبوت نہیں تو اور کیا ہے۔ لہٰذا پروپیگنڈہ کا شکار ہونے سے بچیں، حالات کی نزاکت کا ادراک کریں اور اپنے اداروں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں اور جارحیت پسند دشمن کو یک زبان جواب دیں "جا چھوڑ دے میری وادی”

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.