fbpx

بجٹ پر چودھری شجاعت حسین نے دو ٹوک بات کہہ دی

بجٹ کو چودھری شجاعت حسین کس نظر سے دیکھتے ہیں ، ق لیگ کے رہنما نے دو ٹوک بات کہہ دی

باغی ٹی وی : ق لیگ کے سربراہ سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ تقریر میں اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ پیش نہیں کیا گیا. وزیرخزانہ نے روایتی سیاسی تقریر نہیں کی. ان کا کہنا تھا کہ وزیرخزانہ نے روایتی سیاسی تقریر نہیں کی.ماضی میں وزیراعظم کی مدح سرائی زیادہ کی جاتی تھی،

وزیرخزانہ نے اپنی تقریر میں عام آدمی کےمسائل پر زیادہ توجہ دی،خیال رہ کہ وفاقی بجٹ پیش کیا گیا جس کا بجٹ کا حجم 8 ہزار 487 ارب روپے ہو گا، خسارے کا تخمینہ 3 ہزار 990ارب روپے ہو گا، دفاع کیلئے 1370 ارب روپے اور قرضوں اور سود کی ادائیگی کیلئے 3 ہزار 60 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان، وفاقی وزرا اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی موجود ہیں. فاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں مالی سال 22-2021 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں معیشت کوبحران سےنکال کرلائے۔ ہماری حکومت نے مشکل حالات کا مقابلہ کیا، کشتی کوطوفان سےنکال کرساحل پرلےآئےہیں.بہت زیادہ قرضوں کی وجہ سےدیوالیہ ہونےکےقریب تھے،بجٹ خسارہ تاریخ کی بلندترین سطح 20ارب ڈالرپرتھا،

فاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ معیشت کومضبوط بنیادفراہم کردی گئی ہے،بجٹ خسارےکی وجہ سےعدم توازن کاسامناتھا،بجٹ کاحجم 8ہزار487ارب روپےہوگا،ہمارےاوپربھاری گردشی قرضوں کابوجھ تھا،ہمیں خراب معیشت ورثےمیں ملی،ماضی میں بلاسوچےسمجھےقرضےلیےگئے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.