fbpx

باد نما :ہم صحافی کیوں بن گئے؟—محمد انور 

میں یا ہم صحافی کیوں بن گئے یا صحافت کے پیشے کو اختیار کرکے اسی میں کیوں سماء گئے ؟ ،حالانکہ مجموعی طور پر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے مالی حالات تو کبھی بھی صحافیوں کے مالی مفاد میں بہتر نہیں رہے حقیقت تو یہ بھی ہے کہ ہم صحافیوں کی اکثریت تنخواہوں اور مالی وسائل کے بارے میں اکثر "اللہ  توکل ” کیا کرتی ہے ۔ ہمارا یقین ہوتا ہے کہ تنخواہیں اللہ کے حکم سے طے پاتی ہیں اور اسی کی مرضی سے اس میں کمی اور اضافہ ہوا کرتا ہے خیر بات ہورہی تھی سوال کی کہ ” ہم صحافی کیوں بن گئے؟ یہ وہ  سوال ہے جو میں اپنے آپ سے اکثر کیا کرتا ہوں جس کا جواب مجھے مختلف مواقع پر اللہ کی جانب سے مل جایا کرتا ہے.

 آج بھی مجھے اس سوال کا جواب یوں ملا ۔۔۔۔۔ معمول کے مطابق سو کر اٹھنے کے بعد میں ناشتہ کر رہا تھا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی میں نے موبائل کال پر نظر ڈالی ، کال کسی نامعلوم نمبر سے تھی،  فون ریسیو کیا تو دوسری جانب سے میرے مرحوم دوست مشہور کارٹونسٹ کریم راٹھور کے بیٹے نعمان راٹھور بول رہے تھے ” میں نعمان بول رہا ہوں، سر ایک مسلہ ہوگیا ہے میری موٹر سائیکل ٹریفک پولیس والے اٹھاکر گرومندر کی چوکی پر لے آئے ہیں اس بات کے ساتھ ہی نعمان نے کہا کہ سر میں آپ کو دوبارہ کال کرتا ہوں ، کہہ کر نعمان نے کال منقطع کی پھر کچھ دیر بعد نعمان نے مجھے دوبارہ کال کی اور کہا کہ سر اللہ کا شکر ہے کہ مسلہ حل ہوگیا دراصل میں  نے آپ کو اس وقت کال کی تھی جب پولیس اہلکار تعارف کرانے کے باوجود بھی میری بات تک سننے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن جیسے ہی میں نے آپ کا حوالہ دے کر آپ سے بات کی اور کہا کہ میں آپ کی انور صاحب سے بات کراتا ہوں  تو پولیس افسر نے اچانک ہی خوش اخلاقی سے مخاطب ہوکر مجھ سے کہا ” آو بیٹا یہ چابی لو گاڑی لے جاو ” ۔نعمان کے لہجے میں مسرت اور اطمینان تھا ۔ میں نے نعمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چلو اللہ کا کرم ہے، آپ کا مسئلہ حل ہوگیا اللہ نے میری بھی عزت رکھ لی ۔ یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے ساتھ ہی میں نے اپنے دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ آپ کا  کرم ہے کہ آپ نے مجھے نامعلوم پولیس افسر  کے ذریعے بھی سرخرو کیا اور میری عزت میں اضافہ کیا ۔مجھے اس بات پر بھی اطمینان ہوا کہ یقینا میرے پیارے دوست کریم راٹھور  کی روح کو بھی اطمینان ہوا ہوگا کہ ان کے دوست ان کی وفات کے بعد بھی نہیں ان کے بچوں کے ساتھ بہترین تعلقات رکھے ہوئے ہیں ۔ 

یہ اللہ کا احسان عظیم ہے کہ اللہ نے مجھے صحافت جسے عظیم پیشے سے منسلک کرکے روزبروز میری عزت میں اور شہرت میں اضافہ بھی کررہا ہے ۔

ایک انسان کو زندگی میں عزت اور شہرت حاصل ہوجائے تو یہ بھی اللہ کا بڑا احسان ہی تو  ہے ۔ آخر دنیا میں عزت اور شہرت سے بڑھ کر اور کیا چیز ہوتی ہے ۔دولت تو نصیب کا کھیل ہے ۔

اللہ پاک نے مجھے بلکہ ہم سب ہی ہم پیشہ دوستوں کو صحافی اور خصوصا صحافت کے شعبہ رپورٹنگ سے منسلک کرکے بلاشبہ زندگی میں بڑے انعام سے نوازا ہے جس کے لیے ہم کو اللہ کا ہمیشہ ہی جتنا شکر ادا کریں کم ہی ہوگا ۔

شعبہ صحافت ہم کو زیادہ سے زیادہ نیک کام کرنے، انسانیت کی خدمت کرنے اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنے کے آسان مواقع بھی فراہم کرتا ہے ۔ مگر یہ سب وہی حاصل کرسکتا ہے یا کرتا ہے جن کو اس کی امنگ یا خواہش ہو۔ اس خواہش کی تکمیل کے لیے اللہ اور اس کے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کرتے رہتے ہوں ۔ 

آج کل تو نامعلوم نمبر سے آنے والی کال  بھی ریسیو نہیں کرنا ایک عام بات بن چکی ہے، حالانکہ فون سننے کے کوئی چارجز بھی نہیں ہوتے ، میری نظر میں فون کرنے والا کوئی بھی ہوسکتا ہے جیسے آپ کے گھر کے دروازے پر کوئی بھی جاننے والا یا نامعلوم کسی بھی وقت ضرورت کے تحت دستک دے سکتا ہے ۔گیٹ پر کون ہے یہ گیٹ کھولے بغیر نہیں پتا چل سکتا باالکل اسی طرح جیسے فون کال ریسیو کیے بغیر یہ علم نہیں ہوسکتا کہ کہ کالر یا کال کرنے والا کون ہے ۔ناشتہ کرتے وقت میرے پاس نامعلوم  موبائل کال  اٹینڈ نہ کرنے کا پورا بہانہ تھا ۔شاید نیکی کرنے سے روکنے کی ڈیوٹی دینے والے شیطان کی بھی یہ مرضی تھی لیکن اللہ کا کرم ہے کہ والدین کی دی ہوئی تربیت میں کبھی بھی یہ شامل نہیں رہا کہ مخاطب ہونے  ، دروازے پر دستک دینے والے یا فون کال کرنے والے کو نظرانداز کیا جائے ۔ اس لیے یہ عمل الحمدللہ اب ایک عادت بن چکی ہے ۔ایک لمحے کے لیے سوچا جائے کہ اگر میں نعمان کی پریشانی کی حالت میں کی گئی موبائل کال کو رسیو نہیں کرتا تو کیا ہوتا؟ قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ نعمان کا فوری مسلہ حل نہیں ہوتا مگر میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں نعمان کی کال ریسیو نہیں کرتا تو میں ایک بڑی نیکی سے محروم ہوجاتا ، جو میرے سامنے پہنچ چکی تھی ۔ یہی نہیں صرف اس فون اٹینڈ نہ کرنے سے نعمان کو مزید جو بھی پریشانی اٹھانی پڑتی اس کا زمے دار بھی میں ہوتا ۔لیکن شکر الحمداللہ کہ اللہ نے مجھے صحافی بنایا ایسا صحافی جو معاشرے کے مسائل سے بخوبی واقف ہے جسے یہ معلوم ہے کہ یہاں قدم قدم پر لوگوں کو بلا وجہ بھی تنگ کیا جاتا ہے اور معمولی نوعیت کے کاموں کے لیے بھی ڈھٹائی سے رشوت لے لی جاتی ہے ۔ 

صحافت کے مقدس پیشے کو آلودہ کرکے اس کے ذریعے دولت کمانے والے بھی ایسا ہی کررہے ہیں مگر یقین ہے کہ روپے پیسے کی لالچ میں جڑے لوگوں کو  اپنی عزت اور شہرت  کی قربانی دینی پڑ رہی ہوگی ۔

نامعلوم ایام کی مختصر زندگی کے لیے عزت و شہرت حاصل کرنے کے ساتھ زیادہ زیادہ نیکیاں کمانے کے لیے ویسے تو تمام شعبہ ہائے زندگی میں نیک کام کرنے کے مواقع دستیاب ہوتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ صحافت کے شعبے میں نیک کام کرنے کے مواقع زیادہ ملا کرتے ہیں ، کچھ لوگ ان موقعوں کو صرف ذاتی مفادات حاصل کرنے تک محدود رکھتے ہیں جبکہ نیک کام کرنے نیکیاں حاصل کرنے کا موقع بھی اللہ تعالٰی اپنے پسندیدہ بندوں کو دیا کرتا ہے ۔ دعا ہے کہ اللّٰہ ہم سب کو بھی زیادہ سے زیادہ نیک کام کرنے کی توفیق اور ہمت عطا کرے آمین ثم آمین 

باد نما :ہم صحافی کیوں بن گئے؟—محمد انور 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.