fbpx

"بدعنوانی کا خاتمہ ضروری” .تحریر:اقصی احمد خان

پاکستان کے بڑ ے مسائل میں سے بدعنوانی اور دہشت گردی سر فہرست ہیں۔
دہشتگردی کے لئے تو پاکستان کی کوششیں انتہائی کامیاب ہیں اور الحمداللہ ہماری فوج نے دہشت گردی کے نیٹ ورک کی حیرانکن نتائج کے ساتھ کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ہماری ان کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے ۔ بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمارا فوج کا ادارہ عالمی سطح پر ایک کنسلٹیٹو کا درجہ رکھتاہے تو غلط نہیں ہوگا ۔آپ سب سے گزارش ہے کہ اس فورمپر، علم اور تجربہ کی بنیاد پر اپنی اپنی آراء سے مستفید فرمائیں۔ممکن ہے ہماری یہ چھوٹی سی کوشش اس ضمن میں مددگار ثابت ہو۔
میں ایک طالب علم ہوں سو میری رائے کوئی حرفِ آخر نہیں بلکہ رائے بھی کیا بس کُچھ پریشان خیالیاں ہیں جو آپ احباب سے شئیر کر سکتی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے۔ یہاں شخصیات اور ادارے طاقتور ہیں اور قانون کمزور ایسے میں ہم اپنے اطراف جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کی صورتِ حال ہر قدم باآسانی دیکھ سکتے ہیں ۔ یہاں چونکہ خود قانون ہی بے آبرو ہے تو موقع اور مفاد پرست شخصیات اور اداروں میں عزت، خودداری، ملی غیرت اور خود احتسابی جیسی ضروری خصوصیات کیسے پیدا ہوں۔ آج کلمے کے نام پر حاصل کیے گئے اس ملک کی عملی شکل کُچھ یوں ہے کہ آپ شیطانیت کے راج میں ہونے والے کسی بھی بڑے سے بڑے روح فرسا جُرم کا تصور کر لیں وہ جُرم آپ کو پوری آب و تاب کے ساتھ ارضِ پاک میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی پر ملے گا۔ یہاں کسی بڑے سے بڑے سانحے کا بھی کوئی ذمہ دار نہیں ملتا۔ پاکستان دو لخت ہو گیا مگر ہمارے عملی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظوں کی آن بان میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ وہ خود کو اس ٹکڑے کے پہلے سے زیادہ اہم محافظ قرار دیتے ہیں۔ یہاں قانون ایک سنگین مذاق ہے۔ جب تک یہاں قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی ہم خود کو باوقار قوموں کی صف میں آخری درجے پر بھی نہیں لا سکتے۔
نا اُمیدی کفر ہے سو اُمید کرتے ہیں کہ ایک دن عوام اپنے اجتماعی شعور کو حرکت میں لا کر اندھیروں سے روشنیوں کے سفر کی طرف ضرور گامزن ہوں گے۔ ہر الزام حکومت پر ڈال دینا انتہائی درجے کی بیوقوفی ہے ہمیں بطور قوم اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے۔

ہوتی نہیں قبول دعا ترکِ عشق کی
دل چاہتا نہ ہو تو زباں میں اثر کہاں

انتخابی اصلاحات اہم ہیں۔ تو میرا اور آپ کا مشترکہ نعرہ کہ انتخابی اصلاحات تشکیل دی جائیں۔

میرا تو سب سے پہلے اس بات سے اختلاف ہے کہ عوام مظلوم ہیں ۔ عوام خود ظالم ہیں۔ دوسروں پہ بھی ظلم کرتے ہیں اور خود پہ بھی ۔ رمضان کی آمد سے پیشتر ہی پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان چھونا شروع کر دیتی ہیں ۔ یہ قیمتیں حکومت یا ریاستی ادارے نہیں بڑھاتے ۔ ہم عوام بڑھاتے ہیں ۔ ایک کسان سے لے کر چھابڑی فروش تک اور گودام کے مالک سے لے کر گلی میں جا کے سبزی بیچنے والے تک ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ جتنا لُوٹا جا سکتا ہے لُو ٹ لو ۔اس لُوٹ مار میں ہم عوام خود سب سے آگے ہوتے ہیں۔
اگر یہاں یہ کہا جائے کہ چونکہ قانون کی حکمرانی نہیں ہے اس لیے سب کچھ ہو رہا ہے تو آپ قانون کی حُکمرانی کر کے دیکھ لیں جن کے خون میں حرام کی کمائی کی ملاوٹ ہو چکی ہے وہ حرام کھانے سے کبھی باز نہیں آئیں گے ۔ پاکستان کا مستقبل عوام کے ہاتھ میں ہے ہمیں چاہئے کہ اب ہم اپنی عادتوں کو بدلیں اور پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کے راستے پر گامزن کریں ۔

اقصی احمد خان
کراچی
@ShinyAqsa