fbpx

بغاوت طبرستان تحریر:منصور احمد قریشی

مازیار بن قارن رئیس طبرستان عبدالّٰلہ بن طاہر گورنر خراسان کا ماتحت اور خراج گزار تھا ۔ اُس کے اور عبدالّٰلہ بن طاہر کے درمیان کسی بات پر ناراضگی پیدا ہوئی ۔ مازیار نے کہا کہ میں براہِ راست خراج دارالخلافہ میں بھیج دیا کروں گا ۔ لیکن عبدالّٰلہ بن طاہر کو ادا نہ کروں گا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر اس بات کو اپنے وقارِ گورنری کے خلاف سمجھ کر ناپسند کرتا تھا ۔ چند روز تک یہی جھگڑا رہا اور مازیار خراج براہِ راست دارالخلافہ میں بھیجتا ۔ اور وہاں سے عبدالّٰلہ بن طاہر کے وکیل کو وصول ہوتا رہا۔ 

جنگِ بابک کے زمانے میں افشین کو آزادانہ خرچ کرنے کا اختیار تھا اور اس کے پاس برابر معتصم ہر قسم کا سامان اور روپیہ بھجواتا رہتا تھا۔ افشین اپنی فوج کے لیۓ نہایت کفایت شعاری کے ساتھ سامان اور روپیہ خرچ کرتا رہتا تھا ۔ باقی تمام روپیہ اور سامان اپنے وطن اشروسنہ ( علاقہ ترکستان ) کو روانہ کردیتا تھا ۔ 

یہ سامان جو آذر بائیجان سے بھیجا جاتا تھا ۔ خراسان میں ہو کر گزرتا تھا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر کو جب یہ معلوم ہوا کہ افشین برابر اپنے وطن کو سامانِ رسد ، سامانِ حرب اور روپیہ بھجوا رہا ہے تو اُس کو شُبہ ہوا ۔ اُس نے ان سامان لے جانے والوں کو گرفتار کر کے قید کر لیا ۔ اور تمام سامان اور روپیہ چھین کر اپنے قبضے میں رکھا اور افشین کو لکھ بھیجا کہ آپ کے لشکر سے کچھ لوگ اس قدر سامان لیۓ ہوۓ جا رہے تھے ۔ میں نے اُن کو گرفتار کر کے قید کر دیا ہے اور سامان اپنی فوج میں تقسیم کر دیا ہے ۔ کیونکہ میں ترکستان پر چڑھائی کی تیاری کر رہا ہوں ۔ اگرچہ ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم چور نہیں ہیں اور اپنے آپ کو آپ کا فرستادہ بتایا ۔ لیکن اُن کا یہ بیان قطعاً غلط اور جھوٹ معلوم ہوتا ہے ۔ کیونکہ اگر یہ چور نہ ہوتے اور آپ کے بھیجے ہوۓ ہوتے تو آپ مجھ کو ضرور اطلاع دیتے ۔

اس خط کو دیکھ کر افشین بہت شرمندہ ہوا اور عبدالّٰلہ بن طاہر کو لکھا کہ وہ لوگ چور نہیں ہیں بلکہ میرے ہی فرستادہ تھے ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے افشین کے اس خط کو دیکھ کر اُن لوگوں کو چھوڑ دیا ۔ مگر جو سامان اُن سے چھینا تھا وہ نہیں دیا ۔ اس امر کی ایک خفیہ رپورٹ عبدالّٰلہ بن طاہر نے خلیفہ معتصم کے پاس بھی بھیج دی جس پر بظاہر خلیفہ معتصم نے کوئی التفات نہیں کیا ۔ 

حقیقت یہ تھی کہ افشین اپنی ریاست و سلطنت اشروسنہ میں قائم کرنا چاہتا تھا اور اسی لیۓ وہ پیشتر سے تیاری کر رہا تھا ۔ جب افشین جنگِ بابک سے فارغ ہو کر سامرا میں واپس آیا تو اُس کو توقع تھی کہ خلیفہ معتصم مجھ کو خراسان کی گورنری عطا کرے گا اور اس طرح مجھ کو بخوبی موقع مل جاۓ گا کہ میں اپنی حکومت و سلطنت کے لیۓ بخوبی تیاری کر سکوں ۔ لیکن خلیفہ معتصم نے اُس کو ارمینیا و آذربائیجان کی حکومت پر مامور کیا اور اُمیدِ خراسان کا خون ہو گیا ۔

اس کے بعد ہی جنگِ روم پیش آ گئی افشین کو اس لڑائی میں بھی شریک ہونا پڑا مگر اس جنگ میں معتصم خود موجود تھا اور اُس نے ابتدا میں اگر کسی کو سپہ سالارِ اعظم بنایا تھا تو وہ عجیف تھا جو اپنے آپ کو افشین کا مدِ مقابل اور رقیب سمجھتا تھا ۔ اب افشین نے ایک اور تدبیر سوچی وہ یہ کہ مازیار حاکم طبرستان کو پوشیدہ طور پر ایک خط بھیجا اور عبدالّٰلہ بن طاہر کے خلاف مقابلے پر اُبھارا۔ اس خط کا مضمون یہ تھا :۔

” دین زردشتی کا کوئی ناصر و مددگار میرے اور تمھارے سوا نہیں ہے بابک بھی اسی دین کی حمایت میں کوشاں تھا ۔ لیکن وہ محض اپنی حماقت کی وجہ سے ہلاک و برباد ہوا ۔ اور اس نے میری نصیحتوں پر مطلق توجہ نہ کی ۔ اس وقت بھی ایک زریں موقع حاصل ہے وہ یہ کہ تم علم مخالفت بند کر دو ۔ یہ لوگ تمھارے مقابلے کے لیۓ میرے سوا یقیناً کسی دوسرے کو مامور نہ کریں گے ۔ اس وقت میرے پاس سب سے زیادہ طاقتور اور زبردست فوج ہے میں تم سے سازش کر لوں گا اور ہم دونوں متفق ہو جائینگے ۔ اس کے بعد ہمارے مقابلے پر مغاربہ ۔ عرب اور خراسانیوں کے سوا اور کوئی نہ آۓ گا ۔ مغاربہ کی تعداد بہت ہی قلیل ہے ان کے مقابلہ کے لیۓ ہماری فوج کا ایک معمولی دستہ کافی ہو گا ۔ عربوں کی حالت یہ ہے کہ ایک لقمہ ان کو دے دو اور خوب پتھروں سے ان کا سر کُچلو ۔ خراسانیوں کا جوش دودھ کا سا اُبال ہے ۔ تھوڑے سے استقلال میں ان کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ تم اگر ذرا ہمت کرو تو وہی دین مذہب جو ملوک عجم کے زمانے میں تھا پھر قائم و جاری ہو سکتا ہے۔”

مازیار اس خط کو پڑھ کر خوش ہوا اور اس نے علمِ بغاوت بلند کر دیا ۔ رعایا سے ایک سال کا پیشگی خراج وصول کر کے سامانِ حرب کی فراہمی اور قلعوں کی مرمت و درستی سے فارغ ہو کر بڑی سے بڑی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیۓ تیار ہو بیٹھا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر کو جب مازیار کی بغاوت و سرکشی کا حال معلوم ہوا تو اس نے اپنے چچا حسن بن حسین کو ایک لشکر کے ساتھ اس طرف روانہ کیا ۔ ادھر معتصم کو اس بغاوت کا حال معلوم ہوا تو اس نے دارالخلافہ اور دوسرے مقامات سے عبدالّٰلہ بن طاہر کی امداد کے لیۓ فوجوں کی روانگی کا حکم صادر کیا ۔ مگر افشین کو اُس طرف جانے کا حکم نہیں دیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مازیار گرفتار ہو کر عبدالّٰلہ بن طاہر کی خدمت میں پیش کیا گیا ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے اُس کو معتصم کی خدمت میں روانہ کر دیا اور معتصم نے اُس کو جیل خانے بھیج دیا ۔ حسن بن حسین نے جب مازیار کو گرفتار کیا تو اتفاق سے افشین کا مذکورہ خط اور اس کے علاوہ اسی مضمون کے اور بھی خطوط جو افشین نے مازیار کے پاس بھیجے تھے ۔ مازیار کے پاس سے برآمد ہوۓ ۔ عبدالّٰلہ بن طاہر نے یہ خطوط بھی خلیفہ معتصم کے پاس بھیج دیئے ۔ مگر خلیفہ معتصم نے ان خطوط کو لے کر اپنے پاس بحفاظت رکھ تو لیا اور بظاہر کوئی التفات اس طرف نہیں کیا ۔ یہ واقعہ سنہ ۲۲۴ کا ہے ۔

منصور احمد قریشی ( اسلام آباد )

Twitter Handle : ‎@MansurQr