fbpx

بہت ہو گیا،اب ہو گی قانونی کاروائی، مگر کس کیخلاف، فروغ نسیم پھٹ پڑے

بہت ہو گیا،اب ہو گی قانونی کاروائی، مگر کس کیخلاف، فروغ نسیم پھٹ پڑے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 243 کے تحت سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو توسیع دی گئی۔ اس تعیناتی کو عدالت میں چیلنج کیا گیا لیکن بعد ازاں اس کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ عدالت نے اس معاملے پر موجودہ حکومت کی رہنمائی کی ہے جس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججوں کے شکر گزار ہیں۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع،وزیراعظم نے کیا کہا تھا؟ اٹارنی جنرل نے اندر کی بات بتا دی

فروغ نسیم کا مزید کہنا تھا کہ ججوں اور وکلاءکے درمیان بحث مباحثہ ہوتا ہے، اس بحث کو فیصلہ نہیں کہہ سکتے، میڈیا کو چاہیے کہ وہ خبریں جاری کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کر لیا کرے۔ بعض چینلز نے میرے اور وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر پر وزیراعظم کی برہمی کے حوالے سے خبریں چلائیں جو کہ جھوٹی تھیں، ہم ان چینلز کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہے ہیں، اسی طرح میرے لائسنس سے متعلق بھی غلط خبریں چلائی گئیں، یہ اہم مقدمہ تھا، اس معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ماضی کی حکومتوں نے اس حوالے سے قانون سازی کر کے اسے ٹھیک کیوں نہیں کیا۔

فروغ نسیم کا مزید کہنا تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ زبردست جرنیل ہیں، وہ دشمنوں کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہیں، دشمن انہیں ہٹانا چاہتا ہے لیکن ہم جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کا بھرپور ساتھ دینا ہے۔ حکومت جمہوریت، آئین اور قانون کے ساتھ کھڑی ہے، عدلیہ اور فوج ہمارے ادارے ہیں، ان پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔

سابق وفاقی وزیر قانون کا مزید کہنا تھا کہ ججز قانون کے محافظ ہیں، ہم نے بھی عدالتوں کا احترام کیا ہے، میڈیا کو بھی ججوں، فوج اور وکلاءکا احترام کرنا چاہیے۔ چیف جسٹس صاحبان اور آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ان عہدوں پر ان کے پیش رو کے ناموں کے نوٹیفکیشن جاری کئے جاتے ہیں۔

فروغ نسیم کا مزید کہنا تھا کہ رضا کارانہ طور پر وزیر قانون و انصاف کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس کے دوران میرے اس فیصلے کا اعلان کیا جس کو کابینہ نے سراہا.

چیف جسٹس نے قانون میں کون کونسی ترامیم کا کہہ دیا؟ فروغ نسیم نے عدالت میں کیا کہا؟

وفاقی کابینہ میں کس وفاقی وزیر کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا؟ اہم خبر

آرمی چیف کی مدت ملازمت،عدالتی فیصلے پر بابر اعوان کا دو لفظی تبصرہ

سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو دوبارہ وزرات دی جائے گی یا نہیں؟ اہم خبر

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں سپریم کورٹ نے چھ ماہ توسیع کر دی ہے،چیف جسٹس نے  فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آرٹیکل 243 فور بی کے تحت کی ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جمع کرایا گیا،ہمارے سامنے یہ سوال آیا کہ کیا توسیع دی جاسکتی ہے یا نہیں،آرمی ایکٹ اور اس کے رول کا جائزہ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالتی سوالوں کا جواب دیا، دستاویزات کے مطابق پاک آرمی کا کنٹرول وفاقی حکومت سنبھالتی ہے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.