*بلدیہ ضلع وسطی کی کرپٹ مافیا سرپرستی سے محروم*

سندھ حکومت کو بلدیہ ضلع وسطی کی ابتر صورتحال کا خیال آگیا،متعصبانہ عمل اور کرپٹ افسران کی مبینہ سرپرستی کے الزامات رکھنے والے ڈپٹی کمشنر سینٹرل تنہاں رہ گئے،محمد بخش راجا دھاریجو کے دائیں اور بائیں بازوں کہلائے جانے والے دو اہم افسران کے تبادلوں کے بعد ضلع وسطی کی کرپٹ مافیا سرپرستی سے محروم ہوکر رہ گئی،ڈی ایم سی کے سینئر افسران نے نئے میونسپل کمشنر محمد علی زیدی اور تحقیقاتی اداروں سے ضلع وسطی میں پیٹرول ڈیزل کے متنازعہ ٹھیکے،ڈور ٹو ڈور گاربیج کلیکشن ،معطل افسران کی جاری لوٹ مار سمیت میونسپل ولوکل ٹیکسز کی مد میں ضلع وسطی کے خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے والے افسران کیخلاف فوری تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق بلدیہ ضلع وسطی میں گذشتہ کئی ماہ سے جاری ابتر صورتحال اور ڈپٹی کمشنر وایڈ منسٹریٹرسینٹرل محمد بخش راجا دھاریجو پر متعصبانہ عمل اور کرپٹ افسران کی مبینہ سرپرستی کے سنگین الزامات پر سندھ حکومت نے اس کانوٹس لے لیا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع وسطی میں ڈپٹی کمشنر وایڈ منسٹریٹر کے دائیں اور بائیں بازوں کہلائے جانے والے دو اہم افسران کے اچانک تبادلوں کے بعد ضلع وسطی میں ڈرامائی انداز میں صورتحال تبدیل ہوگئی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ میونسپل کمشنر سمیرا حسین اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرI امتیاز ابڑو کا سندھ حکومت نے تبادلہ کردیا ہے،مذکورہ دونوں افسران ڈپٹی کمشنر سینٹرل محمد بخش راجا دھاریجو کے انتہائی قابل اعتماد افسران قرار دیئے جاتے تھے،ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر سینٹرل راجا دھاریجوں اپنے قریبی دوست امتیاز ابڑو کو پہلے میونسپل کمشنر سینٹرل کا چارج دلانے کی کوششوں میں مصروف تھے تاہم ذرائع ابلاغ میں ان کے سابقہ متنازعہ کارناموں کی تشہیر کے بعد انہیں میونسپل کمشنر سینٹرل کا عہدہ تو نہ مل سکاتھا تاہم سندھ حکومت نے امتیاز ابڑو کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرI سینٹرل تعینات کردیا تھا جبکہ اس پوسٹ پر موجود سمیرا حسین کو ڈپٹی کمشنر کی مبینہ خواہش پر میونسپل کمشنر سینٹرل کا چارج دیدیا گیا تھا،ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی ایم سی سینٹرل کے تمام امور سمیرا حسین اور امتیاز ابڑو نے سنبھال رکھے تھے، اور اس دوران لوکل گورنمنٹ بورڈ کی جانب سے ضلع وسطی کے کرپٹ افسران کیخلاف کارروائی اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا تو مذکورہ میونسپل کمشنر سینٹرل سمیرا حسین اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرI امتیاز ابڑو کی جانب سے مذکورہ افسران کی مبینہ سرپرستی کی جاتی رہی،ذرائع کا کہنا ہے کہ راشد منہارو ڈ پر موجود معروف شاپنگ مال کو ایڈورٹائزمنٹ کے ٹیکس میں حیران کن کمی کرکے ضلع وسطی کے خزانے کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچانے والوں کیخلاف مذکورہ افسران کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ،ڈی ایم سی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع وسطی میں پیٹرول وڈیزل کا ٹھیکہ بھی متنازعہ بنا ہوا ہے ،بتایا جاتا ہے کہ ضلع وسطی میں پیٹرول ڈیزل کی خریداری کا ٹھیکہ مذکورہ افسران نے اپنے ایک قریبی دوست کے حوالے کررکھا ہے جس کے عیوض مبینہ بھاری مفادات حاصل کئے گئے ہیں تاہم سندھ حکومت کی جانب سے غیر متوقع طور پر مذکورہ افسرا ن کے تبادلوں کے بعد بدعنوانیوں کے ریکارڈ چھپانا افسران کیلئے محال بن گیا ہے جبکہ ضلع وسطی کی کرپٹ مافیا میں بھی بے چینی پھیل گئی ہے،واضح رہے کہ سندھ حکومت نے میونسپل کمشنرسمیرا حسین کا تبادلہ کرکے ان کی جگہ ایکس پی سی ایس گریڈ18 کے او پی ایس افسرسید محمد علی زیدی کو میونسپل کمشنر کا چارج دیدیا ہے جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرI کا عہدہ رکھنے والے امتیاز ابڑو کا بھی تبادلہ کرکے ڈپٹی کمشنر وایڈ منسٹریٹرل سینٹرل محمد بخش راجا دھاریجو کو تنہاں کردیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ میونسپل کمشنر سینٹرل بننے والے او پی ایس افسر محمد علی زیدی کا شمار بھی ڈپٹی کمشنر سینٹرل کے قریبی دوستوںمیں سے کیا جارہا ہے تاہم اس کے باوجود ضلع وسطی کے سینئر اور غیر سیاسی افسران نے گذشتہ چند ماہ کے دوران کرپٹ افسران کی مبینہ سرپرستی کے ذریعے ضلع وسطی کو پہنچائے جانے والے نقصانات پر فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.