fbpx

بلوچستان:30سالوں سے500 فیصد زائد بارشوں سے تباہی،ایمرجنسی نافذکردی گئی

کوئٹہ :پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں حالیہ مون سون میں تیس سالوں سے پانچ سو فیصد زائد بارشوں سے 111 افراد جاں بحق، جب کہ مختلف حادثات میں ایک ہزار افراد زخمی اور 50 ہزار گھر متاثر ہوئے ہیں۔ضلع لسبیلہ میں سیکڑوں افراد ریلے میں پھنس گئے، صوبے بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

 

چیف سیکریٹری بلوچستان، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور این ایچ اے حکام نے مشترکا پریس کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان میں دس اضلاع زیادہ چودہ نارمل متاثر ہوئے ہیں، اس دوران بارشوں اور سیلاب سے 6070 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے،جب کہ 6 ہزار کلو میٹر سڑکیں، 2 لاکھ ہیکٹر رقبے پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہے۔

 

چیف سیکریٹری بلوچستان کے مطابق مختلف حادثات اور سیلاب بارشوں سے 17500 افراد کو ریسکیو کیا گیا، متاثرہ 16ہزار 87 گھروں کے لئے راشن اور 10ہزار سے زائد شیلٹر فراہم کئے گئے۔ تاہم خراب موسم کی وجہ سے فضائی ریلیف آپریشن جاری ہے۔ اس موقع پر صوبائی اور وفاق کی جانب سے متاثرین کیلئے 10،10 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان بھی کیا گیا ۔

 

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے  نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے چیئرمین نے بتایا کہ حب میں نیا بائی پاس بنا رہے ہیں، ایم ایٹ پر کچھ جگہوں پر ٹریفک بحال کر دی گئی ہے، جب کہ سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہونے والے پلوں کی مرمت بھی کردی گئی ہے، جس کے بعد لائٹ اور ہیوی ٹریفک رواں دواں ہے۔

ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے ( PDMA) کے مطابق بلوچستان کے ضلع لسبیلہ ( Lasbela ) میں طوفانی بارش کے بعد سیکڑوں افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے ہیں، جب کہ اوڑکی اور دیگر مقامات سے سیلابی ریلے میں پھنسے 250 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا ہے۔ فیصل پانیزئی کے مطابق ریسکیو کیے گیے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ لسبیلہ کے دیگر علاقوں میں بھی متاثرین کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

 

 

مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ ہیں، صوبہ بھر میں شدید بارشوں سے وسیع پیمانے پر نقصانات ہوئے۔ موجودہ صورت حال کے تناظر میں لندن کا سرکاری دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

 

 

مخدوم صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے تمام سیاسی مصروفیات ترک کرتے ہوئے ضلع لسبیلہ کے دورے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ بلوچستان صوبے میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

 

 

پی ڈی ایم کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان موسلا دھار بارشوں کے دوران جاں بحق افراد کی تعداد 106ہوگئی ہے، جب کہ مختلف حادثات میں 62 افراد زخمی بھی ہوئے۔ کوئٹہ میں مون سون بارشوں سے 6077 گھر منہدم جب کہ 712 مویشی سیلابی پانی کی نظر ہوگئے۔

بارشوں سے کان مہترزئی خانوزئی کے متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ ریسکیو ٹیموں کے مطابق ہنہ اوڑک میں چالیس خاندانوں کو محفوظ مقام پرمنتقل کر دیا گیا، کیچ، تربت، گوادر، پنجگور، لسبیلہ بھی بارشوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ضلع واشک میں کھڑی فصلوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچا ہے۔ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث پانی مساجد سمیت گھروں میں داخل ہوگیا۔

پشین میں جمعرات 28 جولائی کو بھی موسلا دھار بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، کلی تراٹہ اور نیو خان اسکیم میں گھروں کی دیواریں گرگئیں، جب کہ متاثرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے اور حکومتی سطح پر امداد اور مدد کیلئے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

پاک بحریہ کی جانب سے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے۔

ترجمان پاک بحریہ کے مطابق پاک بحریہ ریلیف آپریشن کے دوران سول انتظامیہ کی مسلسل معاونت کررہا ہے۔

زمینی راستہ منقطع ہونے کی وجہ سے پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز نے بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے مختلف علاقوں میں راشن اور دیگر ضروری سامان پہنچایا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ پاک بحریہ مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب زدہ علاقوں کے عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

بیان کے مطابق بولان، لسبیلہ، اوتھل ،جھل مگسی اور غذر میں سیلاب کے دوران پھنسے 700 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے حب، لسبیلہ، اوتھل، زیروپوائنٹ، دیودر اور غذر جی بی میں فری میڈیکل کیمپ لگائے ہیں جہاں لوگوں کو طبی سہولیات اور مفت ادویات فراہم کی جارہی ہیں

بیان کے مطابق لسبیلہ، اوتھل، جھل مگسی، خضدار اور دیگر متاثرہ علاقوں میں 7.5 ٹن غذائی اشیاء، پناہ گاہیں اور دیگر امدادی سامان فراہم کیا گیا ہے۔ امدادی سرگرمیوں اور سیلاب کی وجہ سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کے مختلف مقامات پر اسٹینڈ بائی ریسپانس ٹیمیں تعینات ہیں۔