fbpx

سرکاری املاک و دستاویزات پر سیاستدانوں اور عہدیداروں کی تصاویر لگانے پر پابندی

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سرکاری املاک اور دستاویزات پر سیاستدانوں اور پبلک آفس ہولڈرزکی تصاویر لگانے پر پابندی عائد کر دی۔اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی کچی آبادی سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری۔ عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری وسائل پر ذاتی تشہیرکی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی کچی آبادی سے متعلق فیصلہ جاری کیا اور یہ فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا ہے۔فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ سرکاری وسائل پر ذاتی تشہیر کی اجازت نہیں دی جا سکتی، پاکستان کسی کی جاگیر نہیں جہاں عوام حکمرانوں کے سامنے جھک جائیں۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ سرکاری وسائل پر ذاتی تشہیر کی اجازت نہیں دی جا سکتی، پاکستان کسی کی جاگیر نہیں جہاں عوام حکمرانوں کے سامنے جھک جائیں، جمہوری ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے چوکنا رہنا ہوگا، سرکاری املاک پر ذاتی تشہیر کے لیے تصاویر چسپاں کرنا اخلاقی اقدار کو مجروح کرتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جمہوری ساکھ کو برقرار رکھنے کیلئے چوکنا رہنا ہوگا، سرکاری املاک پر ذاتی تشہیر کیلئے تصاویر چسپاں کرنا اخلاقی اقدار کو مجروح کرتا ہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ تمام چیف سیکرٹریز اور وفاقی انتظامیہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

سابق چیئرمین FBR شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو گیا ہے

دیوالیہ پن سے بچاؤ کے لئے فلپائن ایئر لائن امریکی عدالت پہنچ گئی