fbpx

پاکستان میں گاڑیوں کے لیے بینکوں سے قرض کا حصول بلند ترین سطح پر:آخرایسا کیوں ہورہا ہے

کراچی :پاکستان میں گاڑیوں کے لیے بینکوں سے قرض کا حصول بلند ترین سطح پر:آخرایسا کیوں ہورہا ہے، رپورٹس کے مطابق پاکستان اور بعض اہم بین الاقوامی فورموں پر یہ بحث چل رہی ہے کہ پاکستان میں گزشتہ کئی ماہ سے جہاں گاڑیوں کی تیاری اور فروخت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وہیں گاڑیاں خریدنے کے لیے بینکوں سے قرضے لینے (آٹو فنانسنگ) کے شعبے میں تیزی دیکھی گئی ہے۔آخر اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے،

پاکستان کے مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر ملک میں آٹو فائننسنگ میں دو کھرب 97 ارب روپے صرف ہو چکے ہیں۔ جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 40 فی صد یعنی 85 ارب روپے زیادہ ہے۔اسی طرح صرف مئی 2021 میں اس مد میں پانچ ارب روپے خرچ کیے گئے جو مئی 2020 کے مقابلے میں دو فی صد زیادہ تھے۔

کاروبار کی خبریں دینے والے مقامی انگریزی اخبار ’بزنس ریکارڈر‘ کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک میں ایک لاکھ 20 ہزار گاڑیاں بینکوں سے قرضہ لے کر چلائی جا رہی ہیں۔ رواں برس اپریل تک 12 ارب روپے کے آٹو لونز (یعنی گاڑیوں کے لیے قرضے) جاری کیے جا چکے ہیں۔ یوں بینکوں کے کُل جاری کیے گئے قرضوں کا 43 فی صد تک آٹو فائننس کی مد میں ہیں۔