fbpx

گورنر پنجاب کی برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری

وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب کو برطرف کرنیکا نوٹفیکیشن جاری کردیا

وزیراعظم کے ایڈوائس پر گورنر کو برطرف کیا گیا صدر مملکت نے آج ہی وزیراعظم کی ایڈوائس کو مسترد کردیا تھا۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہصدر مملکت وزیراعظم کی دوسری ایڈوائس مسترد نہیں کرسکتے ‘


قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گورنر پنجاب کو ہٹانے کی وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد کردی تھی

باغی ٹی وی : صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب کو صدر پاکستان کی منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکتا، آئین کے آرٹیکل 101 کی شق 3 کے مطابق "گورنر صدر مملکت کی رضا مندی تک عہدے پر قائم رہے گا صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوانس مسترد کرتے ہیں-

آپ اورآپ کی اتحادی جماعت پی ٹی آئی کاعدالت پر اعتماد ہے؟عدالت کا شیخ رشید سے استفسار

صدر مملکت نے کہا کہ موجودہ گورنر پر نہ تو بدانتظامی کا کوئی الزام ہے اور نہ ہی کسی عدالت کی طرف سے سزا ہوئی، موجودہ گورنر پنجاب نے نہ ہی آئین کے خلاف کوئی کام کیا اس لئے ہٹایا نہیں جا سکتا-

عارف علوی نے کہا کہ ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے صدر مملکت کا فرض ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق پاکستان کے اتحاد کی نمائندگی کرے،گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات، وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفیٰ اور وفاداریوں کی تبدیلی کے حوالے سے رپورٹ ارسال کی تھی-

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ گورنر کو ہٹانا غیر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا،ضروری ہے کہ موجودہ گورنر ایک صحت مند اور صاف جمہوری نظام کی حوصلہ افزائی اور فروغ کے لیے عہدے پر قائم رہیں-

صدر مملکت ڈاکٹر عرف علوی نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل 63 اے ممبران اسمبلی کو خریدنے جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتا، اس مشکل وقت میں دستور پاکستان کے اُصولوں پر قائم رہنے کے لیے پرعزم ہوں اس لیے گورنر پنجاب کو ہٹانے کے وزیر اعظم کی ایڈوائس کومسترد کرتا ہوں-

خیال رہےکہ گورنر پنجاب کو ہٹانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نےدوسری سمری یکم مئی کو ایوان صدر بھیجی تھی۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس کے پابند ہیں، اس سے ہٹنا آئین شکنی ہوگی، صدرمملکت، گورنر پنجاب آئین اور سپریم کورٹ کےحکم پر چلیں، خلاف ورزی سے باز رہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ پارلیمانی جمہوریت میں صدر کا منصب علامتی ہوتا ہے، ان کے پاس ویٹو کا اختیار نہیں، ایوان صدر پی ٹی آئی سیکرٹریٹ نہیں، عمران خان کےغلام نہ بنیں، آئین پر چلیں، عمر چیمہ جاتے جاتے کوئی نیا گند گھولنے سے باز رہیں، شرافت سے گھر چلے جائیں، آئین سے ہٹنے والوں کو آئین، عدالت اور عوام کی سزا کیلئے تیار رہنا ہوگا۔

مسلح افواج کو سیاسی گفتگو میں گھسیٹنے کی کوشش ہو رہی ہے: آئی ایس پی آر