fbpx

برداشت ۔ تحریر : منیب جنجوعہ

اعلیٰ انسانی اخلاق کیا ہیں اور زندگی میں ان کی اہمیت کیا ہے، اس مسئلے پر مختلف علمائے عمرانیات اور دوسرے اہلِ فکر نے بہت کچھ لکھا اور کہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ زندگی کے بنیادی مسائل میں سے ہے۔ اخلاق کی حیثیت اور اہمیت کو مختصر ترین لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ اخلاق دراصل زندگی کے طریقے، سلیقے اور قرینے کا نام ہے، اور اس طریقے کا تعین اور اس سلیقے اور قرینے کا حصول ہی دراصل اخلاقیات کا حقیقی موضوع ہے
کیا وجہ ہے کہ معاشرے میں عدم برداشت بڑھتی جا رہی ہے ہم سیاسی جماعتوں کے کارکنان پر نظر لگاہیں تو ایک دوسرے کو گالی کے اعلاوہ کچھ نہیں اگر مذہب بحث کو دیکھیں تو فقہ واریت عروج پر ہے۔
کیا ہوگیا ہے معاشرے کو؟
ملک کے کرتا دھرتا تو سکون سے ملتے جلتے اور رہتے ہیں لیکن عام سیاسی کارکن کیوں ان کی خاطر ایک دوسرے سے نفرت کر رہا ہے ہر فورم پر ایک نفرت کیوں عیاں ہے؟
پالیسی پر بحث کریں لیکن ذاتیات پر حملے نہ کریں۔

قومی طور پر بھی برداشت ختم ہوچکی ہے گلی کوچے پر ایک دوسرے سے نفرت اور گالی نظر ا رہی ہے اخلاق اور دین کے حکم کو ہم نےچھوڑ دیا ہے۔

عہد کریں
ہر لفظ محبت کا بولیں گے کوئی گالی دے گا تو بھی محبت سے دلیل سے بات کریں گے

بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاق۔ یعنی ’’میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘

دوسری روایت میں حُسْنَ الْاَخْلَاق کے الفاظ آئے ہیں۔
حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَحْسَنَ النَّاسِ خُلْقًا رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں سے اعلیٰ اخلاق رکھتے تھے۔ (متفق علیہ)

حضور ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں قرآن مجید کی شہادت یہ ہے کہ:
اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔
’’بے شک آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔‘‘

معاف کرنا، برداشت کرنا، محبت کرنا اللہ کے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مقبول سنت ہے: