بس اب بہت ہو چکا ، عرب رہنماؤں کا مودی کو جواب

مودی ! بس اب بہت ہو چکا ، عرب رہنماؤں کا جواب

باغی ٹی وی ، بھارت کا وزیر اعظم مودی اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے عرب رہناؤں کو فون کرنے لگالیکن عرب رہمناؤں نے پیغام دے دیا کہ اب بہت ہو چکا ہے .. خلیج ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں جو بکرم وہرا نے لکھا ہے اس بات کا اشارہ ہے کیا ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم مودی نے سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، قطر ، کویت ، بحرین ، عمان ، فلسطین ، اردن اور مصر کے رہنماؤں کے ساتھ ہندوستان اور عرب دنیا کے درمیان تناؤ کو روکنے کے لئے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ .

وہرا نے اپنے مضمون میں دعوی کیا ہے کہ عرب اور بھارت کے مابین اب سب کچھ ٹھیک ہے۔ تاہم ، یہاں گلف میں مقیم میرے ہندوستانی دوست یقین رکھتے ہیں کہ یہ اتنا آسان نظر نہیں آتا جتنا بکرام وہرا نے دعوی کیا ہے۔ وہ اپنی ملازمتوں اور خلیج میں اپنے عہدوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔ سنجیو سنہا جو دبئی میں رہ رہے ہیں ان کا ماننا ہے کہ بھارتیوں کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زیادہ محتاط رہنا چاہئے اور انہیں ہندوستان میں مقیم مسلمانوں اور عرب معاشرے کے خلاف کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ متحدہ عرب امارات میں مقیم 3.4 ملین ہندوستانی جو کل ترسیلات زر کے سلسلے میں‌ 17 ارب اپنے وطن بھیجتے ہیں عربوں کا غصہ کم نہ ہوا تو ہر سال انہیں اپنے گھر انڈیا واپس بھیجا جاسکتا ہے۔

بھارتیوں کو خاص طور پر متحدہ عرب امارات میں خلیجی ممالک میں سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جہاں متعدد وجوہات کی بناء پر ہندوستانی اپنی ساکھ کھو رہے ہیں .

واضح‌رہے کہ خلیجی ممالک میں آر ایس ایس کے ترجمان بھارتیوں کا اثرو رسوخ بڑھتا جارہا تھا۔ لیکن اب ان کے خلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ ایک بھارتی نوجوان راکیش کیترمتھ کو سوشل میڈیا پر اسلام کی توہین کرنے کے الزام میں جہاں ملازمت سے برطرفی کا سامنا کرنا پڑا وہیں ان کے خلاف پولیس کارروائی کا بھی سامنا ہے۔

ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ابوظہبی میں رہنے والے ایک اور بھارتی متیش اودیشی نے فیس بک پر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کیا جس پر انہیں نوکری سے نکال باہر کیا گیا جبکہ ایک کمپنی کے مالک سمیر بھاندری کو نوکری کی تلاش میں آئے مسلم نوجوان سے یہ مذاق بھی مہنگا پڑا جس میں اس نے پاکستان پر طنز کیا۔

بھارت میں اسلاموفوبیا، مسلمانوں سے نفرت کی بازگشت خلیجی ممالک میں بحث جاری

گلف نیوز کے ایڈیٹر کو بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کی دھمکی

گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

مودی کی انتخابی مہم میں نمایاں رہنے والا بی آر شیٹی جس نے مقبوضہ کشمیر میں نازی ایجنڈے پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور وادی میں فلمی شہر بسانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ صحافی عبدالماجد زرگر دو سال پہلے خلیجی ممالک میں آر ایس ایس کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور مسلم مخالف سرگرمیوں کو بے نقاب کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق کئی اداروں کے سربراہان ہندو قوم پرست ہیں۔

باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے خلیجی ممالک میں ہندوں کو آباد کیا گیا پورے مشرق وسطی میں زیورات اور ہیروں کی تجارت پر گجراتی ہندوں کا قبضہ ہے۔ عرب دنیا میں رہنے والے ہندو قوم پرست ، آر ایس ایس اور اس جیسی سوچ رکھنے والی تنظیموں کی مالی معاونت کرتے ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.