fbpx

باطل سے دبنے والے اے آسمان نہیں ہم تحریر : ثمینہ محمدیہ

حق اور باطل کی جنگ روز ازل سے جاری ہے ۔ حضرت آدم علیہ السلام کو شیطان کے سجدہ کرنے کے انکار سے لے کر آج تک جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی ۔ کبھی حق وباطل کی یہ جنگ حضرت ابراھیم علیہ السلام اور نمرود کے درمیان ہوٸی ، تو کبھی یہ جنگ حضرت موسی علیہ السلام اور فرعون کے درمیان ہوٸی ۔ کبھی حق و باطل کی یہ جنگ میدان بدر میں مسلمانوں اور کفار مکہ کے درمیان ہوٸی تو کبھی حق و باطل کی یہ جنگ یزید اور امام حسین علیہ السلام کے درمیان ہوٸی اور کبھی یہ جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوٸی ۔ لیکن حق و باطل کی اس جنگ میں فتح ہمیشہ مسلمانوں کے نصیب میں آٸی ۔ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ

اے محبوب ﷺ )فرما دیجیے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا ، باطل تو ہے ہی مٹنے والا ۔
(سورت الاسراء آیت 81)

زندہ اقوام کی زندگی میں ایسےدن آتے رہتے ہیں جب انہیں دنیا کے سامنےثابت کرنا پڑ جاتا ہے کہ وہ ایک زندہ ،نڈر ، بہادر اور طاقت ور قوم ہیں ، جنہیں اپنی سلامتی کو تحفظ دینا بھی آتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنے دشمن کو نیست نابود کر کے اس کا غرور خاک میں ملانا بھی آتا ہے ۔ ایسا ہی ایک وقت پاکستانی قوم کی زندگی میں بھی آیا جب انہیں اپنے سے کٸی گنا بڑے دشمن سے نہ صرف اپنی سلامتی ، اپنی پہچان کو تحفظ دینا تھا بلکہ اپنے دشمن کا غرور اور گھمنڈ بھی خاک میں ملانا تھا تا کہ دشمن دوبارہ پاکستان کی طرف کبھی میلی آنکھ سے نہ دیکھے ۔ 6 ستمبر کا دن پاکستان کی آن بان شان کا دن ، جس دن پاکستان نے اپنے سے تین گنا بڑھے دشمن کا غرور خاک میں ملا دیا ۔ 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان جس دن پاکستانی قوم اپنے قومی ہیروز کو ، اپنے فوجی جوانوں کو ، اپنے شہدا اور غازیوں کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے ۔ اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہیں کہ ہم اپنے بزرگوں ، اپنے غازیوں ، اپنے شہیدوں کی طرح اپنے ملک پاکستان کا دفاع اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے کریں گے ۔ 6 ستمبر 1965 کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا اور اس ارداے سے حملہ کیا کہ وہ صبح کی چاٸے لاھور میں پٸیے گے اور فتح کا جشن مناٸیں گے ۔ لیکن بھارت یہ بھول چکا تھا کہ پاکستانی قوم ان کی وارث ہے جن 313 نے میدان بدر میں ایک ہزار کو شکست دی تھی ۔ 6 ستمبر کو دشمن نے پاکستان پر حملہ کر کے پاکستان کی سوٸی ہوٸی عوام کو ایک کر دیا ۔ادھر دشمن کا حملہ ہوا ادھر پاکستانی عوام ایک سیسہ پیلاٸی ہوٸی دیواربن کر اپنی افواج کے شانہ بشانہ آ کھڑی ہوٸی اور پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح پاکستانی افواج اور عوام نے تعداد کی کمی اور اسلحہ کی کمی ، جدید ہتھیاروں کی کمی کے باوجود اپنے سے کٸی گنا بڑھے دشمن کو ذلیل و خوارکر کے رکھ دیا کہ دشمن میدان جنگ سے بھاگتے ہوٸے اپنے فوجی جوانوں کی لاشیں بھی پاکستان میں ہی چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

حق و باطل کی اس لڑاٸی میں چشم فلک یہ نظارہ بھی دیکھا کہ چونڈہ کے محاذ پر جب دشمن نے اپنے ٹینکوں کے ذریعے اس ملک کو مٹانا چاہا تو پھر یہاں کے بہادر بیٹوں نے اپنے سینے پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر دشمن کے ٹینکوں کو تباہ و برباد کر دیا ۔ اس دن تو آسمان بھی ہمارے جوانوں کے حوصلے دیکھ کر دھنگ رہ گیا ہوگا ۔بہت سے بزرگ اور فوجی جوان بتاتے ہیں کہ اس دن اس جنگ میں اللہ کے فرشتے بھی مسلمانوں کی مدد کو آٸے تھے اور کچھ اولیا کرام بھی روحانی طور پر مدد کے لیے موجود تھے ۔ یقینا جہاں حق و باطل کی جنگ ہوگی وہاں اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ فرشتوں کو مدد کے لیے ضرور بھیجے گا ۔ چونڈہ جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا دشمن اپنے جوانوں کی لاشیں بھی ادھر ہی چھوڑ کر بھاگ گیا ۔ چونڈہ کے مقامی لوگوں نے ریلوے لاٸن کے قریب گڑھا کھود کر ان سب بھارتی فوجیوں کی لاشوں کو اس گڑھے میں پھینک دیا ۔ جس کا نشان آج بھی وہاں موجود ہے ۔

ہم نے دشمن کو تو شکست دے دی لیکن اب وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنے اندر چھپے غداروں کو بھی پہچانیں جو ہمارے ملک کو لوٹ کرکھا گے ۔ اب وقت کی اہم ضرورت ہے کہ اپنے اندر چھپے یزیدیوں کو بے نقاب کر کے ان کے خلاف اعلان جہاد کیا جاٸے تا کہ پاکستان اپنی بقا و سالمیت اور ترقی میں اپنی مثال آپ ہو ۔ اللہ ہمارے وطن پاکستان کو ہمیشہ سلامت تا قیامت رکھے ۔ آمین

@ch__samina