fbpx

کنٹونمنٹ بورڈ کا معرکہ تحریر عقیل احمد راجپوت

پورے پاکستان میں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے سندھ میں بھی کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کے لئے گہما گہمی دیکھنے میں آرہی ہے ہر جماعت جلسے جلوسوں اور انتخابی مہم کے ذریعے عوام کو اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے مگر انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو اس وقت بھی حکومت اور وزارتوں کے باوجود سندھ کے کسی بھی ایک ضلع کو مثالی ضلع بتانے کی پوزیشن میں نہیں وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کو تین سال پورے ہوچکے اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق کا صوبوں پر صرف ٹیکس لینے کی اور وفاقی ماتحت اداروں کے زریعے اپنی کارکردگی دکھانے کا کام رہ گیا ہے مگر وہ کام بھی وفاقی حکومت سے عوام کو کوئی ریلیف دلانے سے قاصر ہے کیونکہ وفاق کے زیرِ انتظام بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں نے عوام کا جس طرح جوس نکالا ہے وہ کوئی بھی پاکستانی اپکو بخوبی بتا سکتا ہے چینی سے لیکر ایل پی جی تک اور ڈالر سے لیکر ڈالڈا تک ہر چیز وفاقی حکومت کو منہ چڑھاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے مگر وفاقی حکومت کا کہنا ہے آپ کو گھبرانا نہیں ہے 

وفاق کی ناکامیوں کو دیکھنے کے بعد صوبہ سندھ کی جانب رخ کرتے ہیں جہاں پچھلے 13 سالوں سے پیپلز پارٹی کی بلا شرکت غیر لگاتار حکومت جاری ہے بلکہ یوں کہیے کہ سندھ کی عوام پر 13 سالوں سے وہ بھٹو حکومت کررہا ہے جو کبھی دکھائی ہی نہیں دیتا لیکن پھر بھی عوام مر گئی لیکن بھٹو آج بھی ذندہ ہے پیپلز پارٹی نے 13 سالوں میں سندھ کی وہ حالت کردی ہے کہ روشنیوں کا شہر کراچی اب موئنجودڑو کا منظر پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے کیونکہ جب بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے جیسے لوگ جب پاکستان کو ٹیکس کی مد میں 65 پرسنٹ ریونیو دینے والے صوبے پر حکمرانی کریں گے تو بس پھر ملک اور قوم کا اللہ ہی مالک ہے

ویسے ایک نہایت ہی قابل انسان کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت آٹو پر چل رہا ہے 

میرے آرٹیکل کا مین مدا بھی یہی ہے کہ میرا پیارا ملک بیقدروں اور نااہلوں کے ہاتھوں میں ہونے کے باوجود بھی اللہ کے فضل سے چل رہا ہے جس میں پورے پاکستان کی ہر جماعت حکمرانی اور اپوزیشن دونوں ہی مزے لوٹ رہی ہیں سوائے ایک جماعت کے جس کا ذکر بعد میں کرونگا فلحال سندھ کی حکمران جماعتوں کا جائزہ لیتے ہیں تو پیپلز پارٹی تو سب کو معلوم ہے کہ ووٹ تو نکل آتا ہے ہے پولنگ بوتھ سے مگر بھٹو کسی کو نظر نہیں آتا 13 سالوں سے اقتدار میں ہے وفاق میں اپوزیشن میں بھی ہے تحریک انصاف وفاق میں حکمران اور سندھ میں اپوزیشن جماعتوں میں شامل ہے جب کہ انکے بیشتر وفاقی وزیر اور ملک صدر پاکستان کے ساتھ ساتھ گورنر سندھ کا عہدہ آج بھی ان کے پاس ہے لیکن وہ بھی گیارہ گیارہ سو کے ناجانے کتنے ٹیکے اپنے جلسوں میں کراچی والوں کو لگا کر جاچکے مگر وہ تو نا آئے عوام کو کورونا کا ٹیکہ لگ گیا 

تیسری اور سب سے زیادہ اقتدار میں رہنے والی جماعت جو ہر حکومت میں وفاقی یا صوبائی حکومتوں کا حصہ رہی لوکل الیکشن کے پچھلے بیس سالہ دور میں سے 15 سال انکا مئیر منتخب کروا کر دینے والے کراچی کے شہری ایک سید مصطفیٰ کمال کے دور کے علاؤہ کسی بھی وزیر میئر اور گورنر سے آج تک کوئی فوائد حاصل نہیں کرسکے سوائے انکی جائیدادوں اور بینک بیلنس میں اضافے کے علاؤہ لیکن حد تو یہ ہے کہ سندھ کے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں آج بھی یہ جماعت عوام کو ووٹ کے بدلے اچھے کل کی تصویر دکھا کر ووٹ مانگ رہے ہیں جو پچھلے چالیس سالوں سے ووٹ لیتے آرہے ہیں اور صرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکے 

اب آتے ہیں پاک سر زمین پارٹی کی جانب جو اس بار پہلی مرتبہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اس کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال اپنے پارٹی کے منتخب نمائندوں کی الیکشن مہم بہت زور ؤ شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور عوام کی جانب سے تمام جماعتوں کی کارکردگی دیکھنے کے بعد اب مصطفیٰ کمال کو آزمانے کے علاؤہ کوئی آپشن موجود نہیں پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین کی جس بات پر عوام سب سے زیادہ متوجہ وہ یہ نعرہ ہے کے میرے نمائندوں کو ووٹ دیکر آپ اپنے گھروں میں سونا میں اور میرے نمائندے راتوں کو جاگ کر تمہارے صبح کو بہتر بناتے ہوئے نظر آئینگے 

12 ستمبر کو کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں سندھ سے کونسی جماعت کامیاب ہو گی اس کا تو کسی کو علم نہیں مگر عوام کو اپنے ووٹ کا لازمی اور اچھے نمائندوں کو منتخب کرنے کا عمل ہی انکو انکی حالت میں بہتری لانے کا سبب بن سکتا ہے تو عوام کو چاہیے کہ اچھے اور کام والے نمائندوں کو منتخب کروا کر اپنا اور اپنے علاقوں کا مستقبل بہتر بنانے کیلئے ووٹ ضرور دیں اور اچھے کو دیں 

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!