fbpx

بیروزگاری کا دیمک عقیل راجپوت کے قلم سے تحریر عقیل احمد راجپوت

سفید پوش لوگوں کے لئے بیروزگاری موت سے بھی بدترین ہوتی ہے حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں کے باعث ملک میں بیروزگاری کی شرح میں اضافے کی وجہ سے سفید پوش طبقہ انتہائی اذیت سے دوچار ہے فلاحی تنظیمیں لوگوں کے لئے بہت سے اقدامات کررہی ہیں مگر مہنگائی اور بیروزگاری میں کمی نا ہونے اور مزید اضافےکے سبب وہ بھی ان لوگوں کی معاونت فراہم کرنے سے قاصر ہیں

کورونا کے باعث دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بیروزگاری کی شرح میں اضافے کی وجہ سے لوگ فاقوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کراچی کا ایکوکیٹڈ نوجوان فوڈ پانڈا اور بائیکیا پر ڈیلیوری کرکے اپنا گزر بسر کررہا ہے کاروبار ختم ہورہےہیں فیکٹریاں بند ہورہی ہے لوگ بیروزگاری کے دلدل میں پھنسے جارہے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں 

بیروزگاری کی وجہ سے کئی لوگ خود کشیاں کر چکے باپ اپنے بچوں کو زہر دے کر خود زہر پی رہا ہے بچوں کو بھوک سے بلکتے ہوئے دیکھتی مائیں نہروں میں بچوں کے ساتھ چھلانگ لگا رہی ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے مہنگائی ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں سے جینے کی امید چھین رہی ہے کاروبار کرنے والے نوکری پر اور نوکریوں پر جانے والے لوگ گھروں تک پہنچ گئے ہیں اور یہ سلسلہ روز و شب بڑھتا چلا جارہا ہے 

ہر محلے میں کارخانوں کی جگہ دستر خوان کھل رہے ہیں لوگ چندہ جمع کرکے لوگوں کو ایک وقت کی روٹی دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں مگر دستر خوان اور پناہ گاہ اس کا حل نہیں ہیں جب تک حکومت لوگوں کو روزگار فراہم نہیں کرے گی یہ لنگر خانے بڑھتے جائیں گے عوام غربت کی لکیر سے نیچے جاتے جائیں گے ملک میں فوری طور پر معاشی پالیسیوں کے بنائے جانے اور ان پر جنگی بنیادوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے 

  

بیروزگاری کی وجہ سے بچوں کی تعلیم چھوٹ رہی ہیں معاشرے میں جاہلیت پروان چڑھنے کا اندیشہ ہے لوگ بیروزگاری کی وجہ سے ایک وقت کی روٹی نہیں کھا پارہے تو وہ اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دلوا سکتے ہیں سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا نظام نا ہونے کے برابر ہے ایک غریب آدمی اگر اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کروا بھی دے تو بھی اس کے بچوں کا مستقبل تاریک ہی ہونا ہے

حکمرانوں ملک میں ہنر مند افراد پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے  پوری دنیا اپنی قوم کے ہنر سے فائدے حاصل کرکے ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں مگر ہمارے انجینئر ڈاکٹر بیروزگاری کی حالت میں جوکر بن کر روڈوں پر بھیک مانگنے کے بعد ہی اگر نوکریوں پر جائیں گے تو یہ حکمرانوں کے ظلم کی اعلیٰ مثال ہے   تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں لیکر برگر چپس اور چائے کا اسٹال لگا رہا ہے مایوسی میں گھرا انجینئر اپنی ڈگریاں فروخت کر رہا ہے ملک کا مستقبل بیروزگاری کی وجہ سے ایک نوکری کے لئے ہزاروں درخواست کے نیچے دبتا چلا جارہا ہے میرے ملک کا نام روشن کرنے والا پڑھا لکھا طالب علم اپنی ڈگری کو آگ لگا کر اپنا مستقبل تاریک کررہا ہے اور ہم سب اچھا ہے کا گیت گا رہے ہیں 

میں ملک کی عدلیہ افواج پاکستان کے کمانڈر سول سوسائٹی اور سیاست دانوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ ملک کی بنیادوں پر لگی اس بیروزگاری کی دیمک کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ورنہ خدا نا خواستہ یہ دیمک ملک کے مستقبل کو کھا نا جائے اور میرا پیارا پاکستان ترقی کی راہ سے ہٹ کر آپ لوگوں کی بے حسی کو کبھی بھول نا پائے اور تاریخ میں یہ بات نا کہی جائے کے ہر شعبے میں ہنر مندی رکھنے والی قوم کو اس کے فیصلہ ساز ایسے ملے کے وہ ملک کو ترقی کی بجائے پستی کی طرف لے چلے