fbpx

بہترین ایام اور عید الاضحٰی کے اسباق بقلم:جویریہ بتول

بہترین ایام اور عید الاضحٰی کے اسباق…!!!
بقلم:جویریہ بتول

ہمدردی،غمگساری،جذبۂ قربانی،خواہشات نفس پر قابو،محبوب چیزوں کو اللّٰہ تعالٰی کی رضا کی خاطر قربان کر دینے کا پیام لیئے وفاؤں،محبتوں اور چاہتوں سے مزین مسلمانوں کا یہ تہوار عید الاضحٰی قریب ہے۔

خلیل اللّٰہ کی آزمائشوں اور اُن پر پورا اترنے کے انعامات اس تہوار سے خصوصی منسوب ہیں۔
یہ موقع ہمارے اندر جذبۂ ہمدردی،اخوت،بھائی چارے،اور محبتوں کے فروغ کا ہے…
کہ جب ایک معاشرے کا غریب اور کمزور طبقہ بھی براہِ راست مستفید ہوتا تو وہ چاہے قربانی کے جانور کی خریداری ہو،اس کے گوشت کی تقسیم ہو یا اس کی کھال ہو…جس پر معیشت کاایک بہترین پہیہ بھی چلتا ہے…
بہترین مصنوعات تیار ہوتی ہیں۔
یہ ایام ہمیں اپنے رب کی قربت،عبادت اور رضا کے قریب کرتے ہیں جب ہم بدنی،مالی اور عملی عبادات کے ذریعے اس کا تقوٰی تلاشتے ہیں۔
یہاں سب سے بڑا جو پیغام ہمارا رب ہمیں دے رہا ہے وہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالٰی کو نہ تو ہمارا خون پہنچتا ہے اور نہ ہی گوشت…
ہمارے روزے اس کی بڑائی میں اضافہ کرتے ہیں نہ ہماری دیگر عبادات اس پر احسان ہیں…
لیکن یہ ہمارے تقوٰی کو جانچنے کا ٹیسٹ ٹائم ہے…
اور وہ ہم سے ریا و دکھاوے کی بجائے تقوٰی اور عاجزی اور اپنی رضا میں جینا چاہتا ہے…
ابراہیم علیہ السلام کی بہترین اور پسندیدہ ترین چیز ان کا بیٹا اسماعیل علیہ السلام تھا۔
جسے وہ رب کے اشارہ پر قربان کر دینے کے لیئے وہ فورًا تیار ہو گئے اور امام الناس کہلائے…!!!
یہ ہمارے لیئے ایک سبق ہے کہ اگر ہمیں اپنی ایک خواہش قربان کرنی پڑے تو ہم کتنے بہانے گھڑتے ہیں…؟
آئیں،بائیں شائیں کرتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ تقوٰی کی راہیں مضبوط ایمان کی متقاضی ہوتی ہیں…
ہم میں سے ہر ایک کو کوئی چیز کوئی رشتہ،کوئی مال بے حد محبوب ہوتے ہیں لیکن ایمان یہ ہونا چاہیئے کہ اگر رب کی رضا کی خاطر مجھے یہ سب بھی قربان کر دینے پڑیں تو کچھ خسارا نہیں ہے:
والذین امنو اشد حبا للہ…(البقرۃ)۔
اور پھر رب بھی اپنی محبت میں شدت اختیار کرنے والوں کو بے وقعت اور بے مول نہیں چھوڑا کرتا۔
وہ راضی ہو کر انہیں کردار کی اوجِ ثریا پر پہنچاتا ہے…
اُن کا ذکرِ خیر پچھلوں میں باقی رکھتا ہے…
وہ جن سے محبّت کرتا ہے جبریل امین کے زریعے سے فرشتوں اور اہل زمین میں منادی کرواتا ہے کہ پھر دنیا والے بھی اس سے محبّت کرنے لگتے ہیں…
یہ بڑے نصیب کی بات ہے،ایں سعادت بزورِ بازو نیست…
حج بیت اللہ اس بہترین ایام کا ایک زبردست اور اتحاد و مساوات کا بہترین سبق ہے…
جب گورے کالے،پست قامت،طویل قامت،ادنٰی،اعلٰی اس کی بارگاہ میں فقیر بنے ایک ہی پکار پکارتے ہیں:
لبیک اللھم لبیک،لبیک لا شریک لک…
رب کی وحدانیت کا پر زور آوازہ جو چہار دانگِ عالم سنائی دیتا ہے اور اس کی قدرت و جلال کی ہیبت دل میں بٹھا دیتا ہے۔
عید الاضحٰی کے اس موقع پر ایک پیغام جو ہم سب کے لیئے واضح ہے وہ آدابِ فرزندی بھی ہے…
وہ وقت جب باپ اور بیٹے کے درمیان مکالمہ جاری تھا کہ میں تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟
بیٹے کا جواب کردار کی کس قدر بلندی کا غماز ہے کہ ابا جان آپ وہ کر گزریئے جس کا حکم آپ کو آپ کے رب نے دیا ہے…!!!
مجھے آپ ان شآ ءَ اللّٰہ صابروں میں سے پائیں گے…!!!
آج کی اولادیں جو والدین کی اہمیت سے نابلد دکھائی دیتی ہیں اُن کی بات کی پرواہ نہیں کرتیں،
اُن کے تجربات اور حقائق کی نظر کو جھٹلا کر پریشانیوں کو تخلیق کرتی ہیں، یہ موقع ان سب کے لیئے بھی ایک گہرا سبق ہے بقول اقبال رحمہ اللّٰہ:
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی…
سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی…؟
اگر اسماعیل علیہ السلام جیسے آدابِ فرزندی ہمارے معاشرے بھی میں پنپنے لگ جائیں تو یقینًا یہ زندگیاں عید کی سی صورت میں گزرنے لگیں…!!!
پھر ہلالِ عید حقیقی معنوں میں خوشیوں کی بہار بن کر طلوع ہو،
اور کرب سے لبریز اور امن و راحت کو ترستا کوئی کاسۂ خالی نہ ہو…
خوشی کا یہ موقع تمام مسلمانوں کی زندگیوں میں خوشی کو بھر دے…عالمِ اسلام پر چھائی خزاؤں کے سائے چھٹ کر سدا بہاروں کے گلستان مہکیں…
اپنا اور اپنوں کا اور ارد گرد کے رشتہ داروں،لوگوں کا خیال رکھیں…
اللّٰہ تعالٰی تمام مسلمانوں کی من
جملہ عبادات کو اپنی بارگاہ میں خالص اپنی رضا کے لیئے قبول فرما لے…اور ان بہترین ایام کے اسباق کو بقیہ ایام میں بھی رہ نما اور روشنی بنانے کی توفیق نصیب فرمائے…آمین…!!!
===============================